بھارت کے پاس پانی روکنے یا بہاؤ میں تبدیلی کا کوئی جواز نہیں: کمشنر انڈس واٹر
پاکستان کا موقف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈس واٹر کمشنر پاکستان مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہر لحاظ سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، بھارت کے پاس پانی روکنے کا کوئی جواز نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا ون ڈے: آسٹریلیا کیخلاف پاکستان کی 2وکٹیں گر گئیں
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی پالیسیاں
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے غیر ملکی سفارتکاروں کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے پہلگام واقعہ کے بعد سندھ طاس معاہدے کو اپنی دہشتگردی سے جوڑا۔ تنازعات چاہے کتنے ہی سنگین ہوں، لیکن سندھ طاس معاہدہ اپنی اصلی حالت میں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے صوبائی حکومت کو مزید وقت مل گیا
درستگی کی خلاف ورزی
مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت نے رواں سال 3 بار دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی کی، جس میں دو بار مئی کے مہینے میں اس نے چھیڑ خانی کی۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: جہلم اور سیالکوٹ میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے کرکٹ ٹرائلز، ہزاروں نوجوانوں کی شاندار شرکت
پاکستان کا شفافیت کا عزم
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان شفافیت پر یقین رکھتا ہے اور بھارت کے پاس جواب دینے کے لیے کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ ہے، جس میں 12 آرٹیکل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ایران کے راستے برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دے دیا
سندھ طاس معاہدے کی حیثیت
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان یا بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کرسکتے۔ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت کو پانی کے بہاؤ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے کی ضرورت
انڈس واٹر کمشنر نے کہا کہ بھارتی طرز عمل سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اب آواز اقوام متحدہ کی سطح پر اٹھائی جارہی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر دباؤ ڈالا جائے جس پربھارت خود کو جوابدہ سمجھے۔








