بھارت کے پاس پانی روکنے یا بہاؤ میں تبدیلی کا کوئی جواز نہیں: کمشنر انڈس واٹر
پاکستان کا موقف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈس واٹر کمشنر پاکستان مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہر لحاظ سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، بھارت کے پاس پانی روکنے کا کوئی جواز نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ عمر سرفراز چیمہ وہ ہے جو گورنر رہے ہیں؟ سپریم کورٹ کا استفسار
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی پالیسیاں
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے غیر ملکی سفارتکاروں کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے پہلگام واقعہ کے بعد سندھ طاس معاہدے کو اپنی دہشتگردی سے جوڑا۔ تنازعات چاہے کتنے ہی سنگین ہوں، لیکن سندھ طاس معاہدہ اپنی اصلی حالت میں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت نے بجلی کے کروڑوں کے بقایا جات معاف کردیئے۔
درستگی کی خلاف ورزی
مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت نے رواں سال 3 بار دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی کی، جس میں دو بار مئی کے مہینے میں اس نے چھیڑ خانی کی۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ایک اور حیرت انگیز تعمیراتی منصوبہ، مکعب نامی یہ عمارت 400 میٹر اونچی، 400 میٹر چوڑی اور 400 میٹر لمبی ہوگی
پاکستان کا شفافیت کا عزم
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان شفافیت پر یقین رکھتا ہے اور بھارت کے پاس جواب دینے کے لیے کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ ہے، جس میں 12 آرٹیکل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اعجاز اسلم نے عدنان صدیقی کا جہاز میں نہانے کا واقعہ سنادیا
سندھ طاس معاہدے کی حیثیت
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان یا بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کرسکتے۔ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت کو پانی کے بہاؤ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے کی ضرورت
انڈس واٹر کمشنر نے کہا کہ بھارتی طرز عمل سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اب آواز اقوام متحدہ کی سطح پر اٹھائی جارہی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر دباؤ ڈالا جائے جس پربھارت خود کو جوابدہ سمجھے۔








