ڈکی بھائی نے این سی سی آئی اے پر سنگین الزامات عائد کر دیئے
یوٹیوبر کی ضمانت پر رہائی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) حال ہی میں جوئے کی ایپ کی تشہیر کے کیس میں ضمانت پر رہائی پانے والے پاکستان کے معروف یوٹیوبر نے 100 دنوں کی قید کے دوران پیش آئے حالات و واقعات سے پردہ اُٹھا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت کے حوالے سے خبروں کی واضح تردید
این سی سی آئی اے پر الزامات
روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پر اپنے دوستوں سے بدسلوکی اور عدم شفافیت کے الزامات عائد کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شائقین، آپ مجھے اور میرے بیٹے کو گالیاں دینے سے ورلڈ کپ نہیں جیت سکتے”، اہلیہ کپتان سلمان آغا
ڈکی بھائی کا کامیابی کا سفر
سولو یوٹیوبرز میں شمار ہونے والے ڈکی بھائی جلد یوٹیوب پر 1 کروڑ سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کرنے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بارشوں اور سیلاب سے 2 ماہ کے دوران 831 افراد جاں بحق، خیبرپختونخوا میں 480، پنجاب میں 191 ہلاکتیں
پوڈکاسٹ میں انکشافات
حال ہی میں انہوں نے ایک پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ مشکل وقت میں میری مدد کرنے والے دوستوں کے ساتھ بھی این سی سی آئی اے نے مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزادیٔ اظہار آئینی حدود اور قومی مفادات کے ساتھ مشروط ہے، آئینی و قانونی ماہر حافظ احسان کھوکھرایڈووکیٹ
دوستوں کی مدد پر پابندیاں
ڈکی بھائی نے مزید بتایا کہ ندیم نانی والا بھی میری مدد کے لیے آیا تو ایف آئی اے اہلکار نے اس کا موبائل فون ضبط کر لیا، جبکہ اقرا کنول کے شوہر اریب کا استحصال کیا گیا، جس کا انکشاف بعدازاں بگ برادر کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں ہوا۔ اس کے علاوہ میرے خاندان کو بھی دھمکیوں کا سامنا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: چہل قدمی کو عادت بنانے کا ایک اور بہترین فائدہ سامنے آگیا
این سی سی آئی اے کے دفتر میں شفافیت کی کمی
یوٹیوبر نے این سی سی آئی اے کے دفتر میں شفافیت کی کمی پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان کے دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیوں نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ میں قبائلی عمائدین اور فتنۃ الخوارج کا جرگہ ناکام؛ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری
تشدد کا الزام
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ مبینہ طور پر وہاں تشدد کیا جاتا ہے۔
حفاظتی اقدامات کی ضرورت
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام دفاتر میں آڈیو اور ویڈیو کیمرے نصب کیے جائیں۔








