ہر وزارت روایتی رپورٹ دیتی ہے ٹھوس نتائج ناپنے کا نظام موجود نہیں: احسن اقبال
احسن اقبال کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہر وزارت روایتی رپورٹ دیتی ہے مگر ٹھوس نتائج ناپنے کا نظام موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں؟
قومی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد
وزارتِ منصوبہ بندی کے زیرِ اہتمام اصول پالیسی پر قومی مشاورتی ورکشاپ سے احسن اقبال نے آن لائن خطاب کیا اور کہا کہ سالانہ رپورٹنگ کو رسمی عمل نہیں، نتائج پر مبنی بنایا جائے۔ جتنا اہم کام آئین بنانا ہے اتنا ہی اہم آئین کی عمل داری ہے، آئین کے اصولِ پالیسی کو عملی اقدامات میں بدلنا وقت کی ضرورت ہے۔
نتائج پر مبنی نظام کی اہمیت
’’جنگ‘‘ کے مطابق وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ شفاف، نتیجہ خیز اور قابلِ عمل آئین کے اصولوں پر عمل داری کو فریم ورک بنایا جائے۔ اصولِ پالیسی کے اہداف، ترقیاتی ترجیحات اور گورننس آؤٹ کمز کو ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ 52 سال میں اصولِ پالیسی پر عمل درآمد کا نظام وضع نہ ہو سکا، اب ٹھوس لائحہ عمل ضروری ہے۔








