افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی دفتر خارجہ طلبی، خوارج کے حملے پر ڈی مارش دیا گیا
خوارج کے حملے کی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والے خوارج کے حملے میں 4 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت علاقائی امن کیلئے خطرہ بن گئی، پانی روکنے پر پاکستان کا بروقت اور فیصلہ کن رد عمل دینے کا عندیہ
دفتر خارجہ کا باضابطہ ردعمل
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو باضابطہ طور پر دفتر خارجہ طلب کرکے ڈی مارش دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک کمزوری تھی مطلب کا جواب نہ ملے تو ناراض ہو جاتی تھیں، اکثر خفا ہی رہیں، ان کے فقرے میں تلخی بہت تھی، میرا دل ٹوٹ گیا آنکھوں میں آنسو ا تر آئے۔
پاکستان کا مؤقف
''جیو نیوز'' کے مطابق، دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کی معاونت کر رہے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دہشتگردی کے خلاف مطالبات
پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خلاف مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کو تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف فوری اور قابل تصدیق اقدامات کرنے چاہییں۔ پاکستان اپنی خود مختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔








