پاکستان کی غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر غور کی پیشکش پر شکر گزار ہیں؛ امریکا
وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت بعض ممالک نے غزہ میں امن و امان کے قیام کے لیے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں اور فوجی دستے تعینات کرنے پر غور کرنے کی پیش کش بھی کی ہے جس پر امریکا بہت شکر گزار ہے، البتہ ابھی تک کسی ملک سے فوجی کنٹریبیوشن کی حتمی یقین دہانی نہیں لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لیگی وزراءبیان بازی کر رہے ہیں، نواز اور شہباز اپنے لوگوں کو سمجھائیں: شرجیل میمن
غزہ میں فوجی دستے بھیجنے کی رضامندی
امریکی وزارت خارجہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ آیا پاکستان نے غزہ میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے پر امریکا کو باضابطہ طور پر اپنی رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پراپرٹی پر کیپیٹل گین ٹیکس کی شرح میں 25 فیصد تک اضافہ متوقع
پاکستان کا کردار
اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اس بات پر پاکستان کا بے حد مشکور ہے کہ اس نے غزہ امن منصوبے کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی پیش کش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے یرقان سے متاثر ہونے کا خدشہ؟ جیل سپرٹینڈنٹ نے رد عمل جاری کر دیا
ممالک کی دلچسپی
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستان سمیت دیگر ممالک ابھی کچھ اہم سوالات کے جوابات چاہتے ہیں جن کے بعد ہی امریکا کسی ملک سے یہ کہہ سکے گا کہ وہ غزہ امن منصوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے۔
غزہ استحکام فورس کے لیے ممکنہ شمولیت
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو اس تنازعے میں شامل تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہیں اور جو آگے بڑھ کر غزہ استحکام فورس کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔








