پاکستان کی غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر غور کی پیشکش پر شکر گزار ہیں؛ امریکا
وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت بعض ممالک نے غزہ میں امن و امان کے قیام کے لیے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں اور فوجی دستے تعینات کرنے پر غور کرنے کی پیش کش بھی کی ہے جس پر امریکا بہت شکر گزار ہے، البتہ ابھی تک کسی ملک سے فوجی کنٹریبیوشن کی حتمی یقین دہانی نہیں لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام عالم کو طویل تنازعات، اقتصادی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز درپیش ہیں:محسن نقوی کا بڈاپیسٹ پراسس کی ساتویں وزارتی کانفرنس سے خطا
غزہ میں فوجی دستے بھیجنے کی رضامندی
امریکی وزارت خارجہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ آیا پاکستان نے غزہ میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے پر امریکا کو باضابطہ طور پر اپنی رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا: ادویات کی خریداری میں خورد برد، سابق ڈی جی صحت سمیت 10 اہلکاروں کی کارروائی کا آغاز
پاکستان کا کردار
اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اس بات پر پاکستان کا بے حد مشکور ہے کہ اس نے غزہ امن منصوبے کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی پیش کش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا غزہ میں بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن، ہسپتالوں پر براہ راست حملے، طبی سہولیات ختم، 135 فلسطینی شہید
ممالک کی دلچسپی
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستان سمیت دیگر ممالک ابھی کچھ اہم سوالات کے جوابات چاہتے ہیں جن کے بعد ہی امریکا کسی ملک سے یہ کہہ سکے گا کہ وہ غزہ امن منصوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے۔
غزہ استحکام فورس کے لیے ممکنہ شمولیت
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو اس تنازعے میں شامل تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہیں اور جو آگے بڑھ کر غزہ استحکام فورس کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔








