اس ملک میں بگڑی بات کو درست کرنا ناممکنات میں ہے لیکن لگن سچی، میرٹ اور اصول پر ہی کام کرتے ہوں تو اللہ نیک نیتی کا صلہ ضرور دیتا ہے۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 385
یہ بھی پڑھیں: امن پر مبنی کوششیں جاری ہیں: صدر اردوان
یونین کونسل کی بد نظمی
یونین کونسل کی بدنظمی اور شکایات پر قابو پانا بڑا مسئلہ تھا۔ ان کے انتظامی معاملات ڈی او سی او کے پاس تھے جو محکمہ مقامی حکومت کا افسر تو تھا مگر تھا ڈی سی او کے ماتحت۔ بہر حال ہمت مرداں مدد خدا والی بات تھی۔ جہاں اختیار کم ہو وہاں دئیے گئے اختیارات کو exert کرنا بھی آنا چاہیے اور یہ فن مجھے خوب آتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے سیاحت کے لیے 50 سالہ روڈمیپ لانچ کر دیا
میٹنگ اور حکمت عملی
میں نے سارے اے ڈی ایل جیز اور ڈی او سیز کی میٹنگ بلائی اور انہیں یونین کونسل میں پھیلی بد نظمی دور کرنے کے لئے پندرہ دن کی مہلت دی۔ اس کے بعد ہر تحصیل پر تمام یونین کونسلوں کے سیکرٹری صاحبان سے خود مل کر انہیں اپنے لائحہ عمل سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے میں نے کمشنر سے بھی ملاقات کرکے اعتماد میں لیتے کہا؛ "سر! آئندہ تین ماہ میں آپ کو یونین کونسل کی سطح پر واضح تبدیلی نظر آئے گی۔" وہ خوش ہوئے اور ساتھ ہی کہنے لگے؛ "دوسرے بلدیاتی اداروں میں بھی بہت شکایات ہیں۔ میری آدھی ڈاک انہی کے متعلقہ شکایات سے بھری ہوتی ہے۔ ان کا بھی کوئی بندوبست کریں۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! ہفتہ دس دن میں اس حوالے سے بھی آپ کو ایک بریفنگ دیتا ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 30 دنوں میں لیپ ٹاپ سکیم کے اجراء کی ڈیڈ لائن،کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے ؟ جانیے.
چیلنجز کا سامنا
یہ سارے کام چیلنج تھے۔ اس ملک میں بگڑی بات کو درست کرنا ناممکنات میں ہے لیکن میرا یقین ہے اگر آپ میں کمزوری نہ ہو، لگن سچی، آپ میرٹ پر تعینات ہوئے ہوں، میرٹ اور اصول پر ہی کام کرتے ہوں افسر کا آپ پر اعتماد ہو تو اللہ نیک نیتی کا صلہ ضرور دیتا ہے۔ میرا یہ بھی ماننا ہے کہ "اصول کشی خود کشی کے مترادف ہے۔ ایک دفعہ اصول پر مصالحت کرکے سفارش مان لی تو یہ راستہ اپنے لئے بند اور دوسروں کے لئے کھل جائے گا۔"
یہ بھی پڑھیں: کترینہ کیف کی بہن کی بالی ووڈ میں دھواں دار انٹری، فلم کا ٹیزر جاری
کمشنر اور اصول
کمشنر بھی انہی اصولوں کو ماننے والا تھے۔ اب مجھے ثابت کرنا تھا کہ میں ان چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ بال میرے کورٹ میں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ایران کے راستے برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دے دیا
تحصیل ہیڈ کوارٹرز کے دورے
میں نے تحصیل ہیڈ کوارٹرز کے دورے شروع کئے۔ وہاں تمام متعلقہ افسران اور سارے سیکرٹری یونین کونسلز جمع ہوتے۔ میں ان سے بڑی شفقت سے فرداً فرداً ملتا اور اس کے بعد بڑے دوستانہ ماحول میں گفتگو کرتا۔ بعد میں ان کے سوالوں اور ان کی مشکلات سنتا اور جو میرے اختیار میں ہوتا انہیں فوراً حل بھی کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست، اے کیو آئی 292 تک جا پہنچا
توقعات اور اصول
میں ان سے تین باتوں کی توقع کرتا؛
اول؛ آپ سب میرے بچوں، بھائیوں کی طرح ہیں۔ ہمیں مل کر محکمہ کی ساکھ بحال کرنی ہے۔ میں آپ کی ذاتی مشکلات کے حل کے لئے کوشش کروں گا۔
دوئم؛ مجھے جھوٹ بولنے اور کام نہ کرنے والوں سے نفرت ہے۔ غلطی ہو جائے، مجھے سچ بتائیں میں آپ کی مدد کی کوشش کروں گا۔ میرے کام کرنے کے انداز میں ایک لائن ہے۔ لائن سے نیچے والی کوتاہیوں پر ڈانٹ ڈپٹ ہے، تنبیہ ہے، نظر اندازی بھی ہے۔ اس سے اوپر والی غلطیوں کی معافی نہیں۔ جیسے جعلی سرٹیفیکیٹ جاری کرنا، پیسے لینا، ناجائز کسی کو تنگ کرنا اور دفتر سے غیر حاضر رہنا وغیرہ۔ تمام دفاتر میں جو بھی فیس آپ سرکاری طور پر وصول کرتے ہیں اس کا چارٹ نمایاں جگہ لگا ہونا چاہیے۔ اس کی رسید جاری کریں اور کیش بک مکمل ہونی چاہیے۔ (جاری ہے)
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








