گورنر گلگت بلتستان مہدی شاہ کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ
گورنر گلگت بلتستان کا الگ صوبے کا مطالبہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) گلگت بلتستان کے گورنر مہدی شاہ نے الگ صوبے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان کی حق تلفی ہو رہی ہے اور اسی لیے آزاد کشمیر طرز پر احتجاجی تحریک شروع ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر عوام کو قیمتوں میں کمی کے ریلیف سے محروم کردیا
وسائل کی حق تلفی اور احتجاج
گورنر گلگت بلتستان مہدی شاہ نے جاتی امرا لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وسائل ہمارے ہیں جبکہ فائدہ ہمارے علاوہ پورے پاکستان کو ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان کی حق تلفی ہو رہی ہے اور آزاد کشمیر طرز پر یہاں بھی احتجاجی تحریک شروع ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ہدایت پر پاکستان تحریکِ انصاف نے 23 ارکان پر مشتمل نئی سیاسی کمیٹی تشکیل دے دی
حکومتی وعدے اور بجلی کی پیداوار
انہوں نے کہا کہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی اتحادی حکومت ہے لیکن ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے۔ احسن اقبال وہاں آئے اور کہا کہ 200 میگا واٹ بجلی پیدا کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن کچھ نہیں کیا۔ مہدی شاہ نے کہا کہ ہر صوبہ کہتا ہے کہ ہمیں ہمارا شیئر پورا ملنا چاہیے۔ اگر ہمارا علیحدہ صوبہ بنےگا تو شیئر ملیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فصل سرما کا آغاز: جرمنی میں اوورسیز پاکستانیوں کی پارٹی اور دوستانہ بیڈمنٹن میچ
بھارتی قبضہ اور سیاسی صورتحال
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کے علاقوں پر قبضہ کرلیا، ہم نے کچھ نہیں کیا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان اور اس کو لانے والے بہتر فیصلہ کرتے ہوئے اپنے ایریا پر کنٹرول سنبھال لیتے تو شاید جان چھوٹ جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹوکیس؛ بشریٰ بی بی کے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع، روبکار کچھ دیر میں جاری ہونے کا امکان
علاقے کی سہولتوں کی کمی
گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ ہماری زمین اور پہاڑ ایک ہیں، لیکن علاقے کو متنازع قرار دے کر ہمیں سہولتوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بجلی کی پیداوار کے لیے جو پانی استعمال ہو رہا ہے، وہ ہمارے ہاں سے آرہا ہے، لیکن ہمارا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جوہری تعمیرات جاری رہیں تو قیامت برپا کر دیں گے، امریکی صدر کی ایران کو ایک بار پھر دھمکی
ترمیم اور انتخابی وعدے
انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں ہمارے دو مطالبات تھے، پہلا مطالبہ اسمبلی میں سیٹیں 24 سے بڑھا کر 30 کرنے کا تھا۔ احسن اقبال صاحب، آپ نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کریں اور 200 میگا واٹ کے بجائے 50 میگا واٹ بجلی ہی دے دیں۔
اتحادی جماعت سے مایوسی
ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ باقی صوبوں کی نسبت اپنی مرضی سے آزاد ہو کر پاکستان میں شامل ہوئے ہیں۔ جب ہمارے الیکشن آتے ہیں تو سیاست دان وعدے کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 100 میگا واٹ بجلی دینے کا وعدہ کیا ہے، امید ہے مل جائے گی۔ مہدی شاہ نے مرکزی میں اتحادی جماعت سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا اتحادی ہونا فائدے میں نہیں، اور یہ بات میں نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں بھی کی تھی۔








