امریکہ نے وینزویلا کے قریب ایک جہاز ضبط کرلیا، دوسرے جہاز کو روکنے کی کوشش
امریکہ کا وینزویلا کے قریب آئل ٹینکر پر قبضہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) وینزویلا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں امریکہ نے ایک اور آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا پر معاشی اور عسکری دباؤ میں واضح اضافہ کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بورڈ امتحانات ماہ رمضان کے بعد لینے کا فیصلہ
پچھلے مداخلت کا سلسلہ
سی این این کے مطابق یہ رواں ماہ وینزویلا کے نزدیک کسی جہاز کی امریکہ کی جانب سے دوسری بڑی مداخلت ہے۔ اس سے قبل 10 دسمبر کو امریکہ نے “اسکپر” نامی ایک بڑے آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا تھا، جو ایران سے روابط کی وجہ سے امریکی پابندیوں کی زد میں تھا۔ حالانکہ تازہ ضبط کیا گیا جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا اور اس کی ضبطی کے دوران عملے کی جانب سے کسی مزاحمت کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، موجودہ حالات کے پیش نظر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق
امریکی عہدیدار کی تفصیلات
امریکی عہدیدار کے مطابق یہ جہاز پاناما کے جھنڈے تلے چل رہا تھا اور وینزویلا کا تیل لے کر ایشیا کی جانب جا رہا تھا۔ کارروائی کی قیادت امریکی کوسٹ گارڈ نے کی، جبکہ امریکی فوج نے بھی معاونت فراہم کی۔ یہ آپریشن مکمل طور پر بین الاقوامی سمندری حدود میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آصف علی کی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ، شاداب اور سرفراز نے کیا کہا؟
کوسٹ گارڈ کے آپریشن کی ویڈیو
امریکی وزیرِ داخلہ کرسٹی نوم نے سوشل میڈیا پر سات منٹ کی ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ہیلی کاپٹر کو جہاز کے اوپر منڈلاتے دکھایا گیا۔ ان کے مطابق کوسٹ گارڈ نے یہ کارروائی علی الصبح کی اور جہاز آخری بار وینزویلا میں لنگر انداز ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید جہازوں کی مداخلت
اسی دوران امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز وینزویلا کے قریب ایک اور جہاز کو روکنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم اس کی حتمی حیثیت اور سامان کے بارے میں ابھی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے نئے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اپنی نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے 30 نومبر کو جدہ پہنچیں گے۔
صدر ٹرمپ کے اعلان کا اثر
یہ تمام اقدامات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے وینزویلا سے تیل لے جانے والے پابندی زدہ ٹینکروں کے خلاف “سمندری ناکہ بندی” کی بات کی تھی۔ ان بحری کارروائیوں اور وینزویلا کی سرزمین پر ممکنہ زمینی حملوں کی دھمکیوں نے کاراکاس پر دباؤ کو غیرمعمولی حد تک بڑھا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وینزویلا کی معیشت پہلے ہی تیل کے شعبے پر نئی پابندیوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔
امریکی فوج کی دعوے
امریکی فوج اب تک دعویٰ کر چکی ہے کہ اس نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں 29 مبینہ ڈرگ بوٹس تباہ کیں اور 104 افراد کو ہلاک کیا۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ ان کارروائیوں کو منشیات اور غیرقانونی مہاجرین کے خلاف مہم قرار دیتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اصل ہدف صدر نکولس مادورو کی حکومت کو گرانا ہے۔








