عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اسکالر شریعت کا وہ پرچار کر رہے ہیں جو مغرب کو قبول ہے، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کا خطاب
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سربراہ جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ لوگوں کے دماغوں میں دینی مدارس سے متعلق تحفظات ڈالے گئے ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اسکالر شریعت کا وہ پرچار کر رہے ہیں جو مغرب کو قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور جنرل ہسپتال کے سرجنز نے شدید زخمی دل کی سرجری کرکے نوجوان کی جان بچالی
تحفظ دین مدارس کانفرنس
کراچی کے علاقے لیاری میں مولوی عثمان پارک میں تحفظ دین مدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ دینی مدارس میں نوجوانوں کی صلاحیتیں محدود کر دی جاتی ہیں۔ لوگوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ مدارس کیوں وجود میں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیہ مواچھ گوٹھ میں عمارت گرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا
نصاب کی یکجہتی اور بیوروکریسی کا رویہ
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ ایک نصاب اور تعلیم کی بات کی ہے، جب علماء کرام نے کہا آئیں اور مشترکہ نصاب بنائیں تو اس پر بیوروکریسی نے انکار کردیا۔ ہمیں خطرہ اپنی حکومت، بیوروکریسی اور صنعت کاروں سے ہے۔
دینی مدارس کے حق میں مضبوط موقف
ان کا کہنا تھا کہ 2010 میں دینی مدارس نے حکومت کی شرائط تسلیم کیں، 26 ویں ترمیم کے ساتھ ایک قانون پاس کیا گیا، اس قانون کا مسودہ ہم نے تیار نہیں کیا۔ عدم تشدد کا فلسفہ شیخ الہند نے دیا ہے اور سیاست میں ہماری ایک سند ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے یہ واضح کیا کہ دینی مدارس کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔








