اسرائیلی آرمی چیف کی دوبارہ حملے کی وارننگ، ایران نے بھی ممکنہ جارحیت کا خدشہ ظاہر کر دیا۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ کا سخت مؤقف
تل ابیب (ویب ڈیسک) اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے ایک مرتبہ پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی وقت اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر حملے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانی گروپ نے پی آئی اے خریدنے کیلئے حکومت کو انتہائی دلکش پیشکش کر دی
حملے کا سنگین امکان
حالیہ بیان میں اسرائیلی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ بعد ازاں وسیع ہو گئی، جس میں یمن اور ایران سمیت دیگر فریق بھی شامل ہوتے چلے گئے۔ ان کے مطابق اسرائیل جہاں اور جب ضروری سمجھے گا، دشمن کے خلاف کارروائی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان نے مختصر وقت میں پہلا 3ڈی ریلوے اسٹیشن تعمیر کرلیا
ایران پر الزامات
ایال زمیر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف سرگرم عناصر کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا رہا ہے اور اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں کے پیچھے بھی ایران کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے ، جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ جاری
امریکی میڈیا کی رپورٹس
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات کے دوران ایران پر ممکنہ نئے حملے کے حوالے سے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔
ایران کی فوجی سرگرمیاں
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو تشویش ہے کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی دوبارہ تعمیر اور توسیع میں مصروف ہے۔








