لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا، قبضے واپس
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مسلم لیگ (ن) جرمنی کی جانب سے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کے اعزاز میں عشائیہ
درخواستوں اور عدالت کی کارروائی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عابدہ پروین سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے تمام درخواستوں پر اعتراضات دور کر کے فل بنچ بنانے کی سفارش کردی، عدالت نے پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے تحت دیئے گئے قبضوں کو بھی واپس کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: آپ بیتی لکھنے اور کانٹوں پر چلنے میں کوئی فرق نہیں، یہ افسانہ نہیں کہ جادوئی حقیقت سے کام لیکر انہونی کو ہونی یا ہونی کو انہونی کر دکھائیں
چیف سیکرٹری کی پیشی
عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ حکومت کو بتائیے اگر کسی نے جاتی امرا کے خلاف درخواست دی تو ڈی سی اس کے حق میں بھی فیصلہ کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کا روسی ایس یو 35 فائٹر جیٹ مار گرانے کا دعویٰ
ایڈووکیٹ جنرل کی غیر موجودگی
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کیوں نہیں آئے، وکیل نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیمار ہیں اس لیے نہیں آئے، جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں مجھے بیڈ ریسٹ کہا گیا ہے مگر یہاں بیٹھی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر وے ایم فائیو پر ٹریفک حادثہ، 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے
قانونی اختیارات کا تضاد
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران کہا کہ لگتا ہے چیف سیکرٹری نے یہ قانون نہیں پڑھا؟ لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں تمام اختیارات دے دیئے جائیں، یہ قانون بنا کیوں ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ معاملہ سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو ریونیو آفیسر کیسے قبضہ دلا سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ٹرین کے ذریعے پاکستانی جعلی کرنسی کی سمگلنگ ناکام
سول رائٹس کا خاتمہ
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید کہا کہ آپ نے سول سیٹ اپ، سول رائٹس کو ختم کردیا آپ نے عدالتی سپرمیسی کو ختم کردیا ہے، آپ کا بس چلتا تو آئین کو بھی معطل کر دیتے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں یک دم 5 ہزار روپے کی بڑی کمی
قانونی خلا اور خدشات
عدالت نے استفسار کیا کہ قانون کے مطابق جس نے شکایت کردی وہی درخواست گزار ہو گا، کیا یہاں جعلی رجسٹریاں، جعلی دستاویزات نہیں بنتی ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی جیل کے ایک کمرے نہیں،7 سیلز پرمشتمل کمپلیکس میں ہیں، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل
پٹواریوں کی سرگرمیاں
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے قرار دیا کہ اگر آپ کا پٹواری جعلی دستاویزات نہ بنائے تو سول عدالتوں میں اتنے کیسز دائر ہی نا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت میں پیش ہونا بھی بڑا ناگوار تجربہ تھا، کئی بار سرکاری گھر شام کو ملاقات ہو جاتی۔ گپ شپ لگاتے۔ ایک رات اسے صحرائی کھانے پر بھی لے گیا
کمیٹی اراکین کی دھمکیاں
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ کمیٹی ممبران کہتے ہیں کہ دس دس سال قید سزا دیں گے، آپ نے ہمارے سول جج کو دیکھا ہے؟ کیسے خاموشی سے بیٹھا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
اختیارات کا اختیار
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکرٹری سے پوچھا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ تمام اختیارات آپ کو دے دیے جائیں؟
خلاصہ
چیف جسٹس نے کہا کہ اس قانون کے تحت میں یہاں بیٹھی ہوں، کوئی درخواست دے اور میرے گھر کا قبضہ بھی ہوجائے گا، جن پٹواریوں کو آپ نے اختیارات دیے، یہی کل کو قبضہ گروپس کے ساتھ مل جائیں گے۔








