حقیقت یہ ہے کہ بڑے ہوں یا چھوٹے سب ہی فارم 47 والے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان کی تقریر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ مولانا مودودی نے جہاد کے تصور کے ساتھ ساتھ ایک منظم جماعت کی بنیاد رکھ کر تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔ صرف فکر ہی نہیں بلکہ جماعت کی عملی اہمیت بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابو سر ٹاپ سے دوستوں سے بچھڑنے والے بائیکر کی لاش برآمد
فرید احمد پراچہ کی کتاب کی تقریبِ رونمائی
منصورہ میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما فرید احمد پراچہ کی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 40 سال تک جدوجہد کرنے والوں کو جماعتوں میں مقام نہیں دیا جاتا۔ پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری رویوں کے خلاف پنجاب حکومت کا اپنا ریکارڈ موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے ہوں یا چھوٹے، سب ہی فارم 47 والے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم کسی عالمی طاقت سے ٹکراؤ نہیں چاہتے لیکن غلامی بھی نہیں کریں گے، غزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں: حافظ نعیم الرحمان
تعلیمی پالیسی کی تنقید
امیر جماعت اسلامی نے تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سرکاری اسکولوں کا بیڑاغرق کیا گیا اور بعد ازاں انہیں آؤٹ سورس کر دیا گیا، جو ایک ناکام حکمت عملی کا ثبوت ہے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی صورتحال
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کے باوجود جماعت نے صبر، استقامت اور جمہوری جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑا۔ مولانا مودودی کی فکر آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے اور موجودہ حالات میں اس فکر کے ساتھ منظم جدوجہد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔








