بگ بیش لیگ میں شاداب خان کا شاندار کم بیک، اکیلے ہی اپنی ٹیم کو جیت دلا دی
شاداب خان کی شاندار کارکردگی
کینبرا(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل فارم میں آگئے، لیگ اسپنر نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم سڈنی تھنڈر کو بگ بیش لیگ (بی بی ایل) سیزن 15 میں پہلی کامیابی دلا دی۔ پیر کو سڈنی تھنڈر نے مانوکا اوول میں کھیلے گئے میچ میں برسبین ہیٹ کو 34 رنز سے شکست دی۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور مسلح افواج کا میجر محمد اکرم شہید، (نشان حیدر) کی 53ویں برسی پر خراج عقیدت
سڈنی تھنڈر کی بیٹنگ
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سڈنی تھنڈر کی جانب سے اوپنرز سیم کونسٹس اور میتھیو گلکس نے شاندار آغاز فراہم کیا اور سنچری شراکت قائم کی، جس کی بدولت ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 193 رنز بنائے۔ سیم کونسٹس نے 45 گیندوں پر 63 رنز کی اہم اننگز کھیلی جس میں 8 چوکے شامل تھے، جبکہ میتھیو گلکس 48 گیندوں پر 76 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سب کو پتہ ہے پارلیمان کی کوئی اوقات نہیں، لیکن عوام کے سامنے کھلم کھلا بےعزتی کرنا ضروری ہے؟اسد عمر
برسبین ہیٹ کی اننگز
وکٹ کیپر بیٹر سیم بلنگز نے آخر میں 11 گیندوں پر 25 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جس میں 2 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ برسبین ہیٹ کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 4 اوورز میں 35 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی جبکہ جیک وائلڈرمتھ نے 2 اور میتھیو کوہن مین نے ایک وکٹ حاصل کی۔ جواب میں برسبین ہیٹ کی ٹیم 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 159 رنز ہی بنا سکی اور کوئی بھی بیٹر نصف سنچری نہ بنا سکا، جس کی بڑی وجہ شاداب خان کی تباہ کن بولنگ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مبینہ نازیبا ویڈیو کا معاملہ، سجل ملک کا موقف بھی سامنے آگیا
شاداب خان کی اہم وکٹیں
شاداب خان نے برسبین ہیٹ کے ٹاپ آرڈر کو تباہ کیا، کولن منرو، جیک وائلڈرمتھ اور میٹ رینشاؤ کی اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ہیٹ کی جانب سے ہیو ویبن نے 26 گیندوں پر 30 رنز بنا کر کچھ مزاحمت دکھائی جبکہ میکس برائنٹ نے 18 گیندوں پر 25 رنز کا اضافہ کیا، تاہم دیگر بیٹرز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ شاداب خان سڈنی تھنڈر کے نمایاں کھلاڑی رہے اور انہوں نے 4 اوورز میں 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کو اس سیزن کی پہلی جیت دلادی۔
سوشل میڈیا پر بحث
سوشل میڈیا پر شاداب کی اس شاندار کارکردگی کے بعد اگلے سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ان کی قومی ٹیم میں شمولیت کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے۔








