ڈویثرن کا دورہ مکمل کر لیا، سیاسی مداخلت ڈسپلن میں آڑے نہیں آنی چاہیے، کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہو گی اور نہ ہی قانون سے ماورا کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 387
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی لیڈرشپ کی پالیسی حلوائی کی دکان پر نانی جی کی فاتحہ ہے،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل
کمشنر کی ملاقات
محمد خاں کھچی؛ میں نے کمشنر کو آگاہ کیا؛ ”سر! میں نے پورے ڈویثرن کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ تمام فیلڈ فورمیشن کو ہدایات جاری کر دیں ہیں تاکہ عوام کو ڈائریکٹر دفتر کی افادیت سے آگاہی ہو اور انہیں خدمات کی فراہمی احسن انداز میں بغیر کسی تکلیف مہیا کی جا سکے۔ انشاء اللہ آپ کو 2 ماہ میں visible improvement دکھائی دے گی۔ سر! میں بھی آپ سے توقع کروں گا کہ سیاسی مداخلت ڈسپلن میں آڑے نہیں آنی چاہیے۔ اس بات کی آپ کو یقین دھانی کراتا ہوں کہ کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہو گی اور نہ ہی قانون سے ماورا کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایم انسپکشن ٹیم اور صوبائی معاون خصوصی شعیب مرزا کا ٹی ایچ کیو کوٹ مومن کا دورہ، ڈاکٹر غائب، مریض پریشان
ٹی ایم ایز کی کارکردگی
سر! جہاں تک ٹی ایم ایز (ٹحصیل میونسپل ایڈمینسٹریشن) کی کارکردگی کا تعلق ہے اس حوالے سے ان کی آمدنی میں اضافے اور عوامی شکایات کے ممکن حد تک ازالہ کے لئے میں چند روز میں آپ کو تفصیلی بریفنگ دوں گا اور یقین دلاتا ہوں کہ ان کی کاکردگی میں بھی واضح تبدیلی نظر آئے گی۔“ کمشنر تگڑے زمیندار اور اچھے خاندانی پس منظر رکھنے والے شاندار انسان تھے۔ میری باتیں غور سے سنیں اور بولے؛ ”ڈائریکٹر صاحب! مجھے آپ کی باتیں سن کر خوشی ہوئی۔ میں آپ سے ایسی ہی کارکردگی کی امید رکھتا ہوں۔ میرا مکمل تعاون اور اعتماد آپ کو حاصل ہو گا۔ امید ہے آپ اس اعتماد پر پورا اتریں گے۔“ یہ تھی میری کمشنر بہاول پور محمد خاں کھچی سے ملاقات کی تفصیل۔ (وہ وفاقی سیکرٹری بھی رہے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ میرا تعلق ان سے آج بھی ہے)
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں گلوف کا الرٹ جاری
ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر سے ملاقات
اسی گپ شپ کے دوران ڈاکٹر نعیم رؤف ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر (ڈی سی او) بہاول پور بھی آ گئے۔ ان سے بھی تعارف ہوا۔ اعلیٰ ظرف اور خوش پوش شخصیت۔ بعد میں ان سے بھی اچھی یاد اللہ ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کرپشن میں ملوث وزارت مواصلات کے اہلکار سمیت 2 ملزمان گرفتار
کمپلسری ایکشن
ایم پی اے کا خاص بندہ ہے؛ ایک ماہ گزرا تو میں خورشید صاحب کو لے کر شہر بہاول پور میں نکلا۔ صبح کے نو بجے تھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کس کونسل میں جاؤں۔ نواز ڈرائیور کہنے لگا؛ ”سر! سامنے گلی میں یونین کونسل نمبر 8 کا دفتر ہے۔“ خورشید صاحب بولے؛ ”نواز! بڑا یاد کرایا ہے۔ یہ ویسے بھی بڑا نامی سیکرٹری ہے۔ وہیں چلتے ہیں۔“ غالباً یہ سٹیلائیٹ ٹاؤن تھا۔ وہاں پہنچے تو سیکرٹری مرید حسین اپنے کام میں مصروف تھا۔ ریکارڈ چیک کیا تو کیش بک کے لئے موصوف سرکاری کیش بک کی بجائے کاروبار میں استعمال ہونے والا”بہی کھاتا“ استعمال کر رہے تھے۔ پوچھنے پر بڑی معصومیت سے کہا؛ ”میں تو یہی استعمال کرتا آیا ہوں۔ سرکاری کیش بک تو میں نے کبھی استعمال ہی نہیں کی۔“
یہ بھی پڑھیں: ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے، اگر عمران خان کے بیٹے ملک کے خلاف بات کریں گے تو ہم سپورٹ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر
معطلی کا حکم
خورشید صاحب بولے؛ ”صاحب کی ہدایت کے باوجود بھی تم نے ایک ماہ میں کیوں تبدیل نہیں کی۔“ بولا؛ ”اب کر لیتا ہوں۔“ اسے معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ یہ بہاول پور آمد کے بعد پہلا سخت حکم تھا۔ موصوف نے بڑی منت سماجت کی۔ خورشید صاحب کو ایک طرف لے گیا کانا پھوسی بھی کی۔ ان کے جواب بڑا سخت اور نفی میں تھا۔ ابراہیم گھمن ڈی او سی او کو متعلقہ سیکرٹری کو معطل کرنے کو کہا تو جواب ملا؛ ”سر! یہ شاہد حمید ایم پی اے کا چہتا ہے۔ دیکھ لیں۔ بڑی مشکل ہوگی۔“ انہیں دو ٹوک الفاظ میں کہا؛ ”میرے دفتر پہنچنے سے پہلے اس کے معطلی آڈرز میرے میز پر ہوں۔ کوئی ایم پی اے فون کرے تو اسے بتا دیں مجھ سے بات کرے۔”
یہ بھی پڑھیں: ہری پور میں خوفناک آندھی طوفان نے ایک بچے کی جان لے لی ، کئی افراد زخمی
نتیجہ
میرے دفتر پہنچنے تک معطلی آڈرز حسب منشا میز پر تھا اور ابراہیم گھمن بھی۔ کہنے لگا؛ ”سر! ایم پی اے آتا ہی گا۔ یہ اس کا خاص بندہ ہے۔“ ان کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر میں اُس پر ترس ہی کھا سکتا تھا۔ ابراہیم گھمن رینکر تھا اور رینکرز میں دو باتیں عام ملتی ہیں۔ ”جی حضوری اور دوسری افسر تک رسائی افسر کا ذریعہ براستہ پی اے۔“ براہ راست افسر کے دفتر جانے سے کتراتے ہیں۔ میں بھی ان کے اصرار پر کمشنر کو ملنے گیا اور ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








