سائیکل صرف چند گھرانوں کے پاس تھے، بیاہ شادی کے موقع پر گڈّے استعمال کیے جاتے تاکہ بچّے اور عورتیں آسانی سے دوسرے گاؤں تک جا سکیں
ابتدائی قرآن کی تعلیم
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 6
گاؤں کے مشرقی حصّہ میں واقع مسجد میں بچّے قرآن مجید پڑھنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ مسجد کے امام صاحب، ایک نابینا حافظ تھے جو بچّوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ وہ مسجد میں بیٹھے ہوتے تو لڑکے اُن کے سامنے نصف دائرہ سا بنا کر اپنے اِبتدائی "یسرناالقرآن" لے کر بیٹھ جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: خط لکھنے والے 6 ججز کی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات
سبق سنانے کی کوشش
اب یہ بات حتمی طور پر طے نہیں تھی کہ سبق سنانا کس طرف سے شروع کرنا ہے، دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے۔ میں دائیں طرف کے سرے پر بیٹھا تھا اور ایک دوسرا لڑکا بائیں طرف کے سرے پر۔ ہم دونوں میں سے ایک نے کل کا دیا ہوا سبق سنانا شروع کرنا تھا، لیکن ہم دونوں نے سُنانا شروع کردیا۔ ایسی صُورتِ حال میں یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف کا لڑکا خاموش ہوجاتا ہے اور دوسری طرف کا لڑکا سبق سنانا شروع رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے نہ وہ چپ ہوا اور نہ میں خاموش ہوا بلکہ ہم دونوں اور زور سے سبق سنانے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: وکیل کا کام ہوتا ہے جج کو بکری سے شیر بنانا، اگر کوئی جج بکری بنا ہو تو اس کو شیر بنا دیں، جسٹس محسن اختر کیانی کا وکیل سے دلچسپ مکالمہ
امام صاحب کی تنبیہ
حافظ صاحب نے بھی تنبیہ نہ کی کہ ایک طرف کا لڑکا سبق سنائے اور دوسری طرف کا لڑکا خاموش ہوجائے۔ چنانچہ ہوا یہ کہ حافظ صاحب کچھ دیر اس نامعقول حرکت کا مشاہدہ کرتے رہے اور آخر کار جب برداشت سے صورتِ حال باہر ہوگئی تو تھوڑا سا آگے سر کے اور اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں پھیلا دئیے۔ دوسرا لڑکا قدرے دُور نکلا وہ بچ گیا اور میں ہاتھ آگیا۔ چنانچہ مجھے حافظ صاحب نے پکڑ لیا اور پھر مجھے اپنی طرف کھینچ کر میرا سر اپنے دونوں زانوؤں میں لے لیا اور میری کمر پر ڈھول کی طرح اپنے مکّے برساتے شروع کردئیے۔
یہ بھی پڑھیں: منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی محکمہ ایکسائز کے خلاف ملک گیر پہیہ جام ہڑتال
چال چلن کی سیکھ
میرا سَر چونکہ انہوں نے قابو کیا ہوا تھا لہٰذا میں کہیں نہیں جا سکتا تھا لہٰذا یہ پٹائی برداشت کرتے ہی بنی، جس کی ٹیسیں کئی دن تک اس کی یاد دہانی کرتی رہیں کہ میاں "جو کروگے سو بھروگے"۔ اس دن کے بعد پھر دو لڑکوں نے اس طرح ڈھٹائی اور زور دار آواز سے سبق سنانے کی جرأت نہ کی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
محلے کی منظر کشی
ہمارا گھر گلی کی آخری نکڑ میں واقع تھا۔ گلی میں تین دوسری فیملیز بھی رہتی تھیں۔ ایک بیوہ عورت اپنی بیٹی اور ماں کے ساتھ رہتی تھی جو انتہائی غریب عورت تھی۔ دوسرا دین محمد کا گھرانہ تھا جو ایک زمیندار گھرانہ تھا، لیکن زرعی زمین کم ہونے کی وجہ سے اتنا خوشحال نہ تھا۔ تیسرا گھرانہ عبد العزیز کا تھا جو ایک نئی نویلی دلہن کے ساتھ گلی کی نکڑ پر باہر سڑک کی طرف رہائش پذیر تھا۔ ان سب کا تعلق ارائیں برادری سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی لانچنگ کی تصدیق ہو گئی
گاؤں کی زندگی
گاؤں کے زیادہ تر مکان کچّے تھے۔ کئی گھرانوں نے اپنے مکان پکیّ اینٹ سے بھی بنائے ہوئے تھے اور گلیوں میں بھی فرش لگا لیے تھے۔ سڑکیں بہرحال کچی ہی تھیں۔ سائیکل صرف چند گھرانوں کے پاس تھے۔ سب لوگ ایک جگہ سے دُوسری جگہ جانے کے لیے پیدل سفر کرتے تھے۔ زیادہ یا کم فاصلہ کم ہی ماپا جاتا تھا بس جہاں جانا ہوتا چل دیتے اور جتنا بھی وقت لگتا آخر کار وہاں پہنچ جاتے۔ غلّے کی نقل و حرکت کے لیے لکڑی کے بنے گڈّے استعمال کیے جاتے تھے۔ اِن کو دو بیل جو آگے جوتے ہوئے ہوتے، لے کر چلتے تھے اور ایک آدمی گَڈّے کے اوپر بیٹھ کر اُن کے نَتھنوں میں ڈالے گئے رسّوں کے ذریعے اُن کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے سیاسی جماعتوں کو عدالتی نوٹس دئیے جائیں
گاؤں کی ثقافت
بیاہ شادی کے موقع پر بھی گڈّے استعمال کیے جاتے تاکہ بچّے اور عورتیں آسانی سے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک جا سکیں۔ گاؤں میں چند مخصوص جگہیں بھی تھیں جو مسجدوں کے ساتھ ایک کھلی جگہ کی صورت میں تھیں جہاں لوگ آکر بیٹھتے اور گپ شپ لگاتے۔ وہاں درخت بھی لگائے گئے تھے اور گرمیوں میں لوگ چارپائیاں لے کر آجاتے اور دوپہر کو آرام کرتے، گپ شپ لگاتے اور سو بھی جاتے۔
جاری ہے
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








