قوانین کی خلاف ورزی پر 33 نجی سکولز کی رجسٹریشن منسوخ، 10 پر جرمانے عائد
سندھ میں نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ بھر میں نجی تعلیمی اداروں کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی مزید تیز کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب کیلئے پولنگ جاری، 4 امیدوار مدمقابل
تعلیمی اداروں کی جائزہ رپورٹ
روزنامہ جنگ کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر پروفیسر رفیعہ ملاح کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز، سندھ نے پرائیویٹ ایجوکیشن ایکٹ 2013ء کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مختلف خلاف ورزیوں پر 33 نجی سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ جبکہ 10 سکولوں پر جرمانے عائد کر دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال، ملکی ترسیلات میں اضافے کا سلسلہ جاری
معطل کردہ سکول
گیلینٹ فاؤنڈیشن سکول گلشن حدید فیز ٹو، کراچی، میٹرو پولیٹن سکول فیڈرل بی ایریا بلاک 13 اور میٹرو پولیٹن سکول فیڈرل بی ایریا بلاک 20 کی رجسٹریشن کو معطل کر دیا گیا ہے، ان سکولوں نے طلبہ کو 10 فیصد کوٹہ سے کم تعداد میں فری شپ کی فراہمی کی اور زیادہ تر طلبہ کو فیس میں رعایت فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا خواتین کے خلاف ایک اور انتہائی اقدام، گھروں میں قائم بیوٹی پارلرز بھی بند کروادیے، سامان ضبط
کارروائی کی نوعیت
رفیعہ ملاح کے مطابق یہ کارروائی درخواست نمبر 1592/2025 پر 19 اکتوبر کو جاری کیے گئے فیصلے کی روشنی میں کی گئی۔
فیصلہ تمام تعلیمی اداروں میں فیسوں، رجسٹریشن اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے کی جانے والی جامع جانچ پڑتال کے بعد صادر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عطاتارڑ نے تحریک انصاف کو کالعدم ٹی ٹی پی کا سیاسی ونگ اور سہولت کار قرار دے دیا
مزید خلاف ورزیاں
کراچی میں 13 اور حیدرآباد میں 20 نجی اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی جبکہ 10 اسکولوں پر فیسوں میں غیر قانونی اضافہ اور دیگر بے ضابطگیوں پر جرمانے عائد کیے گئے۔
حکام کے مطابق متعدد سکول پرائیویٹ ایجوکیشن ایکٹ کی دفعات پر عملدرآمد میں ناکام رہے تھے۔
نجی تعلیمی اداروں کے لیے ہدایات
ڈائریکٹوریٹ نے تمام نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن بروقت مکمل کریں، اسکول فیسوں کا ریکارڈ واضح رکھیں اور قوانین کی مکمل پابندی کریں، بصورت دیگر مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا اور اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی。








