پی ٹی آئی احتجاج میں پاکستانی عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں دینے کی وڈیوز وائرل، حکومت برطانیہ سے کارروائی کا مطالبہ
پاکستان کا برطانوی حکومت کو خط
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو خط لکھ کر سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم استحکام پیدا کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ: سلامتی کونسل میں پاکستان کی سفارتکاری کام کر گئی، بھارت ہاتھ ملتا رہ گیا
منفی سرگرمیوں کی نشاندہی
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق، حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت سے منفی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیلئے ہوم آفس کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی ویڈیوز زیرگردش ہیں جن میں آرمی چیف کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ مواد نہ بیان بازی اور نہ ہی سیاسی ہے؛ یہ واضح طور پر اقوام متحدہ کے رکن ملک کی اعلیٰ فوجی شخصیت کے قتل پر اکساتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ون کیس؛بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت 14نومبر تک ملتوی
تشدد کی روک تھام کا مطالبہ
خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک پلیٹ فارمز سے مسلسل انتشار اور تشدد کی کالز دی جا رہی ہیں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ، قتل اور تشدد کی کالز دینے والوں کو شناخت اور تحقیقات کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلائے۔
یہ بھی پڑھیں: وانا کیڈٹ کالج حملہ، دہشتگرد افغانستان سے رابطے میں ہیں، آئی ایس پی آر
تحقیقات کی ضرورت
حکومت پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس سے منسلک پلیٹ فارمز کے پاکستان میں تشدد، نفرت اور بڑے پیمانے پر بےامنی پھیلانے کی تحقیقات کی جائے۔ پاکستان میں تشدد پر اکسانے اور بے امنی پھیلانے پر پی ٹی آئی پر فیصلہ کن قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے، جس میں اس پر پابندی بھی شامل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا: سلمان اکرم راجا
برطانیہ کی ذمہ داری
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف تشدد، بےامنی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کیلئے استعمال نہ ہو۔ یہ معاملہ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی، بین الاقوامی قانون اور ذمہ دار ریاستی طرز عمل کیلئے عزم کا امتحان بھی ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات
حکومت پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی خاموشی کو غیر جانبداری نہیں سمجھا جائے گا اور اس کے باہمی اعتماد اور تعاون پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور توقع ہے کہ اس معاملے سے فوری قانونی طور پر نمٹا جائے گا۔








