پی ٹی آئی احتجاج میں پاکستانی عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں دینے کی وڈیوز وائرل، حکومت برطانیہ سے کارروائی کا مطالبہ
پاکستان کا برطانوی حکومت کو خط
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو خط لکھ کر سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم استحکام پیدا کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پابندی کے باوجود بھارتی سکرینوں پر پاکستان کا قومی نغمہ چلا دیاگیا، عطا تارڑ کا دلچسپ انکشاف
منفی سرگرمیوں کی نشاندہی
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق، حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت سے منفی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیلئے ہوم آفس کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی ویڈیوز زیرگردش ہیں جن میں آرمی چیف کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ مواد نہ بیان بازی اور نہ ہی سیاسی ہے؛ یہ واضح طور پر اقوام متحدہ کے رکن ملک کی اعلیٰ فوجی شخصیت کے قتل پر اکساتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان طارق نے پی ایس ایل 11 میں اپنا ہدف بتادیا
تشدد کی روک تھام کا مطالبہ
خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک پلیٹ فارمز سے مسلسل انتشار اور تشدد کی کالز دی جا رہی ہیں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ، قتل اور تشدد کی کالز دینے والوں کو شناخت اور تحقیقات کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلائے۔
یہ بھی پڑھیں: جشن عیدمیلادالنبی ﷺ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام
تحقیقات کی ضرورت
حکومت پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس سے منسلک پلیٹ فارمز کے پاکستان میں تشدد، نفرت اور بڑے پیمانے پر بےامنی پھیلانے کی تحقیقات کی جائے۔ پاکستان میں تشدد پر اکسانے اور بے امنی پھیلانے پر پی ٹی آئی پر فیصلہ کن قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے، جس میں اس پر پابندی بھی شامل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: توہین مذہب کے الزام میں تین ملزمان کو سزائے موت سنادی گئی
برطانیہ کی ذمہ داری
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف تشدد، بےامنی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کیلئے استعمال نہ ہو۔ یہ معاملہ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی، بین الاقوامی قانون اور ذمہ دار ریاستی طرز عمل کیلئے عزم کا امتحان بھی ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات
حکومت پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی خاموشی کو غیر جانبداری نہیں سمجھا جائے گا اور اس کے باہمی اعتماد اور تعاون پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور توقع ہے کہ اس معاملے سے فوری قانونی طور پر نمٹا جائے گا۔








