قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کی سماعت میں اہم ریمارکس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہوتے، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیرونی خطرات جاری رہے تو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرسکتے ہیں: ایران
مخالفین کے گھر جانور جلانے کا کیس
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے مخالفین کے گھر جانور جلانے کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا واقعی گھر اور جانور جلائے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: کِم جانگ اُن: چین کے اتحادی سے ’بدترین دوست‘ بننے تک-1
پولیس کی تفتیش اور شواہد
پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ گھر اور جانور جلائے گئے ہیں، تاہم موقع سے گولیوں کے خول برآمد نہیں ہوئے۔ مدعی مقدمہ کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم ہم سے پلاٹ خریدنا چاہتا ہے، پلاٹ نہ بیچنے پر گھر اور جانور جلائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی فوجی مدد کریں گے: روس اور شمالی کوریا میں اہم دفاعی معاہدے پر عمل شروع ہوگیا
جسٹس ملک شہزاد کا سوال
جسٹس ملک شہزاد احمد نے سوال کیا کہ پولیس کی اعلانیہ غیر اعلانیہ تفتیش کیا کہتی ہے؟ جس پر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزم نے جرگے میں قرآن پر حلف دیا کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
جیل کی حالت اور قانون
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ اگر فیصلے قرآن پر ہوتے تو جیلیں خالی ہوتیں، قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہیں، پولیس کو اپنے شواہد اکٹھے کرنا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے 2026 کے سورج اور چاند گرہن کا شیڈول جاری کردیا
شکایت اور ضمانت کی درخواست
پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف پولیس کو کسی نے گواہی بھی نہیں دی، جس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ اپنا گھر اور جانور خود کوئی نہیں جلاتا۔
ملزم کی ضمانت کی درخواست
ملزم امجد علی نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی، ملزم کے خلاف سکرنڈ کے علاقے میں رواں سال مارچ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا.








