قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کی سماعت میں اہم ریمارکس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہوتے، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کی یوکرین کیخلاف جنگ میں روس کو مکمل تعاون کی پیشکش
مخالفین کے گھر جانور جلانے کا کیس
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے مخالفین کے گھر جانور جلانے کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا واقعی گھر اور جانور جلائے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی مغوی اسسٹنٹ کمشنر زیارت کو بیٹے سمیت شہید کرنے کی شدید مذمت
پولیس کی تفتیش اور شواہد
پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ گھر اور جانور جلائے گئے ہیں، تاہم موقع سے گولیوں کے خول برآمد نہیں ہوئے۔ مدعی مقدمہ کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم ہم سے پلاٹ خریدنا چاہتا ہے، پلاٹ نہ بیچنے پر گھر اور جانور جلائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پوتا پوتی سے دوستانہ رشتہ ہے، ’انور‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، انور مقصود
جسٹس ملک شہزاد کا سوال
جسٹس ملک شہزاد احمد نے سوال کیا کہ پولیس کی اعلانیہ غیر اعلانیہ تفتیش کیا کہتی ہے؟ جس پر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزم نے جرگے میں قرآن پر حلف دیا کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا آمان کے سلطان کو فون، عید کی مبارکباد اور دورہ پاکستان کی دعوت دی
جیل کی حالت اور قانون
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ اگر فیصلے قرآن پر ہوتے تو جیلیں خالی ہوتیں، قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہیں، پولیس کو اپنے شواہد اکٹھے کرنا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حطار انڈسٹریل اسٹیٹ حکومتی پالیسیوں کے باعث زوال کا شکار ہے، صنعتیں بند اور مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
شکایت اور ضمانت کی درخواست
پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف پولیس کو کسی نے گواہی بھی نہیں دی، جس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ اپنا گھر اور جانور خود کوئی نہیں جلاتا۔
ملزم کی ضمانت کی درخواست
ملزم امجد علی نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی، ملزم کے خلاف سکرنڈ کے علاقے میں رواں سال مارچ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا.








