بھارت کے ضلع فتح گڑھ کے گاؤں میں سکھ خاتون نے اپنی زمین مسجد کی تعمیر کیلئے عطیہ کر دی
مسجد کی تعمیر کے لیے زمین عطیہ
فتح گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی ریاست پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب کے ایک گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے لیے 75 سالہ سکھ خاتون نے اپنی زمین عطیہ کر دی۔ سکھ اور ہندو خاندانوں نے مالی تعاون فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس کو 33 مقدمات میں مطلوب خطرناک ڈاکو لاہور سے گرفتار
جکھوالی گاؤں کی صورتحال
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جکھوالی گاؤں میں پیش آیا جو بنیادی طور پر سکھ آبادی پر مشتمل ہے۔ تاہم، یہاں ہندو اور مسلم خاندان بھی آباد ہیں۔ گاؤں میں گوردوارہ اور مندر تو موجود تھے لیکن مسجد نہ ہونے کے باعث مسلم باشندوں کو نماز کے لیے قریبی گاؤں جانا پڑتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کچے میں جاری ’’نجات مہران ‘‘ آپریشن کے دوران 113 مقابلوں میں 27 نامی گرامی ڈاکو مارے جا چکے ہیں، اب بھی 3 یا 4 مغوی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں، آئی جی سندھ
زمین عطیہ کرنے کی وجہ
زمین عطیہ کرنے والی خاتون بی بی راجندر کور نے بتایا کہ انہوں نے مسلم ہمسایوں کی اس مشکل کو دیکھتے ہوئے تقریباً 5 مرلے زمین مسجد کے لیے دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں ریلوے کی 8.5 ہزار ایکڑ زمین پر نجی ادارے اور افراد قابض
برادری کے روابط
ان کے پوتے ستنام سنگھ کے مطابق گاؤں میں سکھ، ہندو اور مسلمان برسوں سے ساتھ رہتے آرہے ہیں اور ہر مذہبی موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے جلد دوسری بار ماں بننے کی خوشخبری مداحوں کے ساتھ شیئر کردی
قانونی حیثیت اور عمل
بھارتی میڈیا کے مطابق، زمین بی بی راجندر کور کے نام تھی جسے قانونی طور پر مسلم کمیٹی کے نام منتقل کر دیا گیا۔ گاؤں کے پنچ اور خاندان کے ایک رکن مونو سنگھ نے کہا کہ سرکاری زمین مذہبی تعمیر کے لیے نہیں دی جا سکتی تھی اس لیے ذاتی زمین عطیہ کی گئی۔
مسجد کی تعمیر اور مالی تعاون
مسجد کمیٹی کے صدر کالا خان نے اس اقدام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف برادریوں کے درمیان تعلقات مثالی ہیں اور امید ہے کہ مسجد کی تعمیر فروری تک مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دیا اور اب تک ساڑھے 3 لاکھ بھارتی روپے جمع ہو چکے ہیں۔








