شہید بینظیر بھٹو نے آئین، پارلیمان اور عوام کے ووٹ کے حق کے لئے بھرپور جدوجہد کی: صدر مملکت
آصف علی زرداری کا پیغام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں جن کو پاکستان کے عوام نے دو بار منتخب کیا، ایک ایسے سیاسی ماحول میں جہاں جمہوریت کو بار بار قدغنوں کا سامنا رہا، آمریت مسلط رہی اور خواتین کے لئے راستے مشکل تر بنائے گئے۔ انہوں نے آئین، پارلیمان اور عوام کے ووٹ کے حق کے لئے بھرپور جدوجہد کی، انتخابات میں ان کی بار بار کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پُرامن سیاست اور جمہوریت پر پورا یقین رکھتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاراچنار سے پشاور جانیوالی مسافر گاڑیوں پر فائرنگ ،خاتون سمیت 11افراد جاں بحق
شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد
ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا کہ (آج) 27 دسمبر دنیا بھر میں اور خاص طور پر پاکستان میں شہیدِ جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کو یاد کیا جا رہا ہے۔ ہم ایک ایسی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں جن کی زندگی اور قربانی پاکستان میں جمہوریت کی جدوجہد سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیز فائر ہو چکا اور رہے گا، بھارت کا خطے میں سپرمیسی کا خواب دفن ہو گیا: نائب وزیرِ اعظم
عوامی فلاح اور نوجوانوں کے مواقع
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ان لوگوں کی بات کی جن کی معاشرے میں کوئی آواز نہیں تھی۔ کسان، مزدور اور غریب خاندان خود کو ان کے قریب محسوس کرتے تھے اور یہی لوگ ان کی سیاست کا مرکز تھے۔ انہوں نے عوامی فلاح پر توجہ دی اور خاص طور پر نوجوانوں کے لئے روزگار، تعلیم، بنیادی سہولتوں اور سماجی ترقی کے مواقع بڑھانے کی کوشش کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایک ایسے پاکستان پر یقین رکھتی تھیں جس میں سب کی شمولیت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے نہم اور دہم جماعت کے سالانہ امتحانات کی ڈیٹ شیٹ جاری کر دی
انتہاپسندی کے خلاف مؤقف
صدر مملکت نے کہا کہ 1990ء کی دہائی میں انہوں نے معیشت کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری لانے اور جدید ذرائع ابلاغ کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ان اقدامات سے آنے والے وقت میں بہتر رابطوں اور معاشی مواقع کی راہ ہموار ہوئی۔ انتہاپسندی کے خلاف ان کا جرأت مندانہ مؤقف ان کی یادگار خدمات میں شامل ہے۔ انہوں نے تشدد اور نفرت کے خلاف کھل کر بات کی اور اپنے نظریات کی قیمت جان کی صورت میں ادا کی۔ ان کی شہادت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ سوچ، تعلیم اور ایک دوسرے کے احترام سے بھی کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی آلودگی میں لاہور کا تیسرا نمبر، پہلے نمبر پر پاکستان کا کونسا شہر ہے؟ جانیے
پاکستان کے نوجوانوں کے لئے پیغام
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے لئے ان کی زندگی میں ایک واضح پیغام ہے کہ انصاف کے لئے آواز اٹھائیں، پُرامن طریقے سے منظم ہوں اور مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ انہوں نے پابندیوں اور دباؤ کا حوصلے سے مقابلہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ سچ کو ہمیشہ کے لئے نہیں دبایا جا سکتا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی پر ہمیں نفرت کی بجائے اتحاد کا راستہ اپنانا ہوگا۔
جمہوری اداروں کی مضبوطی
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کی برسی کے موقع پر میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ ہم ایک جمہوری، سب کو ساتھ لے کر چلنے والے، متنوع اور مستقبل بین پاکستان کے ان کے خواب کو آگے بڑھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ان کی قربانی سے ہمیشہ رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔








