عطا تارڑ نے پی ٹی ایم پر پابندی کی وجوہات بیان کیں
وفاقی وزیر عطا تارڑ کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر پابندی کی وجوہات بتادیں۔
یہ بھی پڑھیں: چناب کے بہاؤ میں تبدیلی ناقابل قبول، دنیا بھارت کے خلاف نوٹس لے: پاکستان
پی ٹی ایم کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی ایم کے کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) اور افغان طالبان سے رابطے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں سے رابطے کی بنیاد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ہسپتال سے واپسی کی ویڈیو بنانے والا پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ زیر حراست
بیرونی فنڈنگ اور پاکستان مخالف بیانیہ
انہوں نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو بیرونی فنڈنگ مل رہی ہے اور ان کا بیانیہ پاکستان مخالف ہے۔ پی ٹی ایم سے منسلک افغان شہریوں نے پاکستانی سفارتخانے پر حملہ کیا اور پرچم کی بےحرمتی کی۔
یہ بھی پڑھیں: میونسپل لائبریری جڑانوالہ میں ”دیوان سنگھ مفتون“ کے مقدمات پر مبنی آپ بیتی اور ہٹلر کی ”میری کہانی“ نامی خودنوشت جیسی کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا
تحقیقات اور پابندیاں
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کو کسی بھی طرح کا تعاون فراہم کرنا ممنوع ہے۔ تنظیم کے دہشت گرد گروپوں سے رابطے اور فنڈنگ کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنظیم کو ثبوتوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے اور ان کے مقاصد کیا ہیں۔
پاکستان کے نظریہ کا تحفظ
عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ سفارتخانوں سے جھنڈے اتارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پی ٹی ایم نے پاکستان کے جھنڈے کو نذر آتش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں، پی ٹی ایم کے ساتھ رابطے کرنے والی تنظیموں کے لیے یہ وارننگ ہے۔








