سکول سے واپسی پر باغوں کے بیچ میں سے ہو کر گھر جاتے، درخت سے گڑا آم کوئی بھی اُٹھا سکتاتھا، درخت سے توڑے گا تو مالی باز پرُس کرے گا
والد صاحب کی شخصیت
مصنف:ع غ جانباز
قسط:18
والد صاحب ایک خوش پوش نوجوان تھے۔ اُس زمانے کے رواج کے مطابق سفید تہبند پر سفید قمیض اور سَر پر سفید کُلّے والی پگڑی باندھے بڑی شان سے چلا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں 4سینیٹرز کے سائبر فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے کا انکشاف
بازار کی شہرت
تھوڑے شاہ خرچ ہونے کی وجہ سے بازار کے فروٹ، مٹھائی فروش آپ کے گن گانے لگے تھے۔ نواں شہر میں ایک ”آسانند“ نامی ڈاکٹر سے بھی والد صاحب کی گاڑھی چھنتی تھی اور اُن کے ہاں اکثر آیا جایا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی صدر نے نئے ایرانی بیلسٹک میزائل کو بڑا چیلنج قرار دے دیا
بچپن کی یادیں
میں اور میرا چھوٹا بھائی عبد الرشید وہاں نواں شہر میں مڈل سکول میں پڑھتے تھے، سکول سے چھٹی ہونے کے بعد وہاں ”دواخانہ“ میں چلے جاتے۔ دوپہر کا کھانا وہاں کھاتے۔ وہاں بھائی محمد شریف اور ماموں کا لڑکا عبد الرحمان جو دواخانے میں کام کرتے تھے، وہاں موجود ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا عروج تھا، کیا زوال ہے۔۔۔آخری مغل بادشاہ کی پڑپوتی سلطانہ بیگم سڑک کنارے چائے کا کھوکھا لگانے پر مجبور ہوگئی۔
آموں کا لطف
سبھی مل کر کھانے کے بعد ایک بڑے ”رنگریزوں“ والے بڑے ”ٹب“ میں آم بھر کر پانی سے ٹھنڈا کر کے بعد میں چُوستے۔ اُس علاقے میں آموں کے بہت باغ تھے۔ ہم سکول سے واپسی پر بھی عام سڑک کی بجائے باغوں کے بیچ میں سے ہو کر واپس جاتے کیونکہ اُن دنوں یہ رائج تھا کہ درخت سے گڑا پڑا آم کوئی بھی اُٹھا کر چُوس سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ نے 25 دسمبر کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے لیے 26 دسمبر کو بھی عام تعطیل کا اعلان کردیا
دواخانے کی ترقی
آہستہ آہستہ جو دواخانہ چل نکلا تو والد صاحب نے ایک ”شربت فولاد“ بنایا اور مارکیٹ کیا جو کافی چلا اور پھر ایک طلسماتی سلیٹ بنائی جس پر کسی بھی نوکدار چیز سے لکھتے جائیں اور پھر اُس پلاسٹک شیٹ کو اوپر اُٹھائیں تو سب لکھا لکھایا غائب ہوجاتا۔
یہ بھی پڑھیں: امارات میں پاکستان کے سفارت خانہ کا تمام پاکستانی شہریوں کو پرسکون رہنے اور قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کا مشورہ
صابن کی تیاری
لیکن یہ طلسماتی سلیٹ گو کہ کافی بِکی، لیکن بعد میں برسات کے موسم آنے پر نمی آنے کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔ اس کے بعد والد صاحب نے کپڑے دھونے کے صابن کا کام بھی شروع کردیا۔ دواخانے کی پچھلی طرف کھلی جگہ پر بڑے بڑے کڑاہے لکڑی سے جلتی آگ پر رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک وہیلز – لوکل آٹوموبائل کی دنیا میں نیا انقلاب
خاندانی اثاثہ
دادا جان حاجی غلام محمد کی لائی ہوئی دساور سے خطیر رقم کے اِسراف کا ذکر تو کافی طوالت سے پچھلے صفحوں کی زینت بن چکا ہے۔ لیکن اُن کے بھائی حاجی قطب الدین نے اپنی دولت کس جگہ لگائی اور اس سے کیا کیا مالی مُنفعت کی وصولی ہوئی؟
حاجی قطب الدین کی خاص دلچسپیاں
یاد رہے حاجی قطب الدین ”حُقے“ کے بڑے رسیا تھے۔ کڑوے تمباکو سے زیب تن کی چلم ہر وقت اُن کے حُقے کی زینت بنی رہتی تھی۔ کئی راہ گیر سڑک سے ملحقہ اُن کی حویلی میں بے دھڑک آجاتے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








