26 نومبر احتجاج، انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

26 نومبر احتجاج کی تفصیلات

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر احتجاج کے کیس میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ چاہتے ہیں 26ویں ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد یہ کیس سنیں؟ جسٹس امین الدین کا وکیل حامد خان سے مکالمہ

سماعت کا آغاز

علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت علیمہ خان کی جانب سے دائر بریت کی درخواست پر فریقین کے وکلاء کی بحث مکمل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ: پیپر مل میں زہریلی گیس، دم گھٹنے سے 4 مزدور جاں بحق

علیمہ خان کے وکیل کا موقف

’’جنگ‘‘ کے مطابق علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ 26 نومبر احتجاج میں علیمہ خان کا قصور یہ ہے کہ بھائی سے جیل میں ملاقات کی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام پارٹی اور عوام تک پہنچایا۔ بانی پی ٹی آئی نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا تھا، جو کہ جمہوری و آئینی تحفظ رکھتا ہے۔

مقدمے میں بتایا گیا کہ علیمہ خان نے میڈیا کے ذریعے احتجاج کا پیغام دیا، اور اس مقدمے میں کسی صحافی یا میڈیا چینل کو گواہ یا نامزد نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ایم این اے کا نوشہرہ میں گرڈ سٹیشن پر دھاوا

عدالت کے سوالات

عدالت نے وکیل سے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ میڈیا کو بھی اس مقدمے میں پھنسایا جائے؟ جس پر علیمہ خان کے وکیل نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ علیمہ خان اور صحافیوں نے یکساں پیغام رپورٹ کیا، لیکن جیل ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا کوئی گواہ موجود نہیں۔

عدالت نے وکیل فیصل ملک سے پوچھا کہ آپ کا کہنا ہے کہ علیمہ خان نے صرف احتجاج کا پیغام دیا؟ وکیل نے جواب دیا کہ جی ہاں، علیمہ خان نے پُرامن احتجاج کا پیغام دیا۔ مقدمے میں شامل دفعات ملزمہ پر لگے الزامات کو ثابت نہیں کرتیں، اور سیاسی انتقامی کارروائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شریعت کورٹ تعیناتی کا ججز کے تبادلے سے کیا تعلق؟ جسٹس محمد علی مظہر کا وکیل فیصل صدیقی سے استفسار

پراسیکیوشن کا موقف

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ پر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی 5 شقوں کے تحت فرد جرم عائد کی گئی، جو تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر لگائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی احتجاج کے دوران سارا کنٹرول منتظمین کے پاس ہوتا ہے۔

ظہیر شاہ نے سوال کیا کہ یہ کیسا پُرامن احتجاج تھا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 170 زخمی ہوئے؟ احتجاج کے وقت ملزمان خود تسلیم کر رہے تھے کہ انہوں نے ملک بند کر دیا، اور مقدمے میں 18 گواہان ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمہ کی درخواست بریت خارج کی جائے۔

فیصلہ محفوظ

اس کے بعد عدالت نے علیمہ خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...