اپوزیشن اچکزئی کو چنتی ہے تو نام دے، اس کے بعد سپیکر کی صوابدید ہے: خواجہ آصف
وزیر دفاع کی وضاحت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اپوزیشن اگر محمود اچکزئی کو چنتی ہے تو نام دے، اس کے بعد سپیکر کی صوابدید ہے۔ ہمیں محمود خان اچکزئی یا کسی بھی فرد پر کوئی اعتراض نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: متنازعہ ٹویٹ کیس، ایمان مزاری کے شوہر ہادی چٹھہ عدالت کے باہر سے گرفتار
مذاکرات اور پیشرفت
’’جنگ‘‘ کے مطابق پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خیال میں مذاکرات کی باتیں صرف اخباری بیانات تک محدود ہیں۔ سنجیدہ مذاکرات پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ ہمیں محمود خان اچکزئی یا کسی بھی فرد پر کوئی اعتراض نہیں، جسے اپوزیشن نامزد کرے گی، ہم اسے مانیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹری سے لاڑکانہ تک کوئی رکاوٹ نہیں تھی، یہ لائن پٹارو، جامشورو، سیہون شریف، دادو اور موہنجو ڈارو سے ہوتی ہوئی لاڑکانہ جنکشن پہنچتی ہے۔
سپیکر کی صوابدید
اپوزیشن اگر محمود خان اچکزئی کو چنتی ہے تو نام دے۔ اس کے بعد سپیکر کی صوابدید ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے نام کو منظور کریں، ہمیں اس پر زیادہ تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
قومی اسمبلی کی صورتحال
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ قومی اسمبلی فلور پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان جو کشیدگی نظر آتی ہے وہ میٹنگز میں نہیں ہوتی۔








