ایران میں مہنگائی اور کرنسی بحران کے خلاف احتجاج، 29 افراد ہلاک
ایران میں احتجاج کی تازہ ترین صورتحال
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی شدید گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کے پہلے نو دنوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ مظاہرے ابتدا میں تہران کے بازار سے شروع ہوئے، جہاں ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی اور مہنگائی نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔ احتجاج اب مغربی اور جنوبی ایران کے متعدد شہروں تک پھیل چکا ہے، تاہم اس کی شدت 2022-23 کے اس ملک گیر احتجاج جتنی نہیں، جو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد بھڑکا تھا۔ اس کے باوجود، حالیہ مظاہرے تیزی سے محض معاشی مطالبات سے آگے بڑھتے ہوئے حکومتی اور مذہبی قیادت کے خلاف نعرے بازی میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کے بعد انڈونیشیا کا 8.1 ارب ڈالر کا رافیل معاہدہ خطرے میں پڑ گیا
ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی تعداد
کرد ایرانی حقوق تنظیم ہینگاو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار افراد 18 سال سے کم عمر ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کے نیٹ ورک HRANA کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 29 ہو چکی ہے، جن میں دو قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ گرفتار افراد کی تعداد 1203 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر بھارت کا ردعمل بھی آ گیا
حکومتی ردعمل
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد جاری نہیں کی، تاہم یہ تسلیم کیا ہے کہ کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے، جرگہ کا خواہ مخواہ واویلا کیا جا رہا ہے: طلال چودھری
بین الاقوامی دباؤ
ایران اس وقت بین الاقوامی دباؤ کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی تو امریکا ان کی مدد کرے گا۔ اس بیان کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران “دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا۔”
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، پی آئی اے نے خلیجی ممالک کے لیے فضائی آپریشن معطل کر دیا
اقتصادی اصلاحات کا اقدام
معاشی بحران کے تناظر میں ایرانی حکومت نے سبسڈی اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت درآمد کنندگان کے لیے ترجیحی زرِ مبادلہ ختم کر کے براہِ راست عوام کو نقد منتقلی کی جائے گی تاکہ ضروری اشیاء کی خریداری میں مدد مل سکے۔ یہ اقدام 10 جنوری سے نافذ العمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیٹر فیصل واوڈا کا آمنا سامنا، خوشگوار ماحول میں بات چیت
ریال کی گراوٹ
اس کے علاوہ 29 دسمبر کو مرکزی بینک کے سربراہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم ان اقدامات کے باوجود ایرانی ریال کی گراوٹ جاری ہے۔ منگل کے روز ڈالر کے مقابلے میں ریال 14 لاکھ 89 ہزار 500 تک گر گیا، جو احتجاج کے آغاز سے اب تک تقریباً 4 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
واضح رہے کہ ایران میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی مسلسل گراوٹ عوامی غصے کو مزید بھڑکا رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح اور فوری ریلیف سامنے نہیں آ سکا۔








