اپوزیشن جب بھی مجھ سے رابطہ کرے گی تو مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے تیار ہوں، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
مذاکرات کی تیاری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اپوزیشن بھی بار بار مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔ اب جب اپوزیشن مجھ سے رابطہ کرے گی تو وزیر اعظم کو بتاوں گے کہ وہ تیار ہیں، آپ مذاکرات کے لیے اپنے لوگوں کے نام دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 14 افراد جاں بحق
لیڈر آف اپوزیشن کا معاملہ
نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے پروگرام 'نقطہ نظر' میں سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے سوال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن کے معاملے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک معاملہ جو عدالت میں ہے، انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں کیس کیا ہوا تھا جس میں سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس موصول ہوا۔ اس کے بعد یہ سپریم کورٹ چلے گئے اور وہاں سے بھی ہمیں نوٹس موصول ہوا۔ پھر سپریم کورٹ نے اس کیس کو پشاور ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ’’ستھرا پنجاب پروگرام‘‘ ماڈل کی تفصیلات مانگی ہیں: عظمیٰ بخاری
اپوزیشن کی جانب سے نامزدگی
میں نے اپوزیشن کو چار خطوط لکھے، جس کے بعد انہوں نے تصدیق شدہ کاپی سپیکر آفس میں جمع کرائی۔ اب میں آئندہ سیشن میں اعلان کروں گا کہ جس نے لیڈر آف اپوزیشن کے کاغذات جمع کرانے ہیں وہ کرا دے۔ اپوزیشن جس کو بھی نامزد کرے گی، ہم پراسیس شروع کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: خالی نہیں دنیائے ہوّس اہلِ وفا سے،کمیاب تو یہ لوگ ہیں نایاب نہیں ہیں،سٹیزن کونسل ملک کے سلگتے مسائل و موضوعات پر غور و فکر کرتی ہے۔
تنخواہوں کا سوال
مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ میرے پاس تو قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران ہی آئیں گے۔ منتخب نمائندگان کے علاوہ اگر کوئی حکومت سے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ خود سے رابطے کر سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کا سفر
مجیب الرحمان شامی کے ایک سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ بنگلہ دیش میں لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا۔ وہاں پر جس طرح سے ڈاکٹر یونس اور دیگر رہنما ملے، اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں پاکستان کے لیے کیسے جذبات ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھارتی وزیر خارجہ سے مصافحہ کے سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ میں وہاں پر پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا، کوئی اپنے ذاتی جذبات کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا کہ ہاتھ نہ ملاتا۔








