اپوزیشن جب بھی مجھ سے رابطہ کرے گی تو مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے تیار ہوں، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
مذاکرات کی تیاری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اپوزیشن بھی بار بار مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔ اب جب اپوزیشن مجھ سے رابطہ کرے گی تو وزیر اعظم کو بتاوں گے کہ وہ تیار ہیں، آپ مذاکرات کے لیے اپنے لوگوں کے نام دیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی دعووں کے باوجود چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو پر برقرار
لیڈر آف اپوزیشن کا معاملہ
نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے پروگرام 'نقطہ نظر' میں سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے سوال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن کے معاملے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک معاملہ جو عدالت میں ہے، انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں کیس کیا ہوا تھا جس میں سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس موصول ہوا۔ اس کے بعد یہ سپریم کورٹ چلے گئے اور وہاں سے بھی ہمیں نوٹس موصول ہوا۔ پھر سپریم کورٹ نے اس کیس کو پشاور ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور مسلح افواج کا میجر محمد اکرم شہید، (نشان حیدر) کی 53ویں برسی پر خراج عقیدت
اپوزیشن کی جانب سے نامزدگی
میں نے اپوزیشن کو چار خطوط لکھے، جس کے بعد انہوں نے تصدیق شدہ کاپی سپیکر آفس میں جمع کرائی۔ اب میں آئندہ سیشن میں اعلان کروں گا کہ جس نے لیڈر آف اپوزیشن کے کاغذات جمع کرانے ہیں وہ کرا دے۔ اپوزیشن جس کو بھی نامزد کرے گی، ہم پراسیس شروع کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ”چہرہ“ چھپانے کی کوشش کی ،مشرقی سرحد یا مغربی سرحد، ”نیونارمل“ اب پاکستان ”سیٹ“ کرے گا، افغانستان کا ”قبلہ“ بھی درست ہو جائے گا۔
تنخواہوں کا سوال
مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ میرے پاس تو قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران ہی آئیں گے۔ منتخب نمائندگان کے علاوہ اگر کوئی حکومت سے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ خود سے رابطے کر سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کا سفر
مجیب الرحمان شامی کے ایک سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ بنگلہ دیش میں لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا۔ وہاں پر جس طرح سے ڈاکٹر یونس اور دیگر رہنما ملے، اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں پاکستان کے لیے کیسے جذبات ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھارتی وزیر خارجہ سے مصافحہ کے سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ میں وہاں پر پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا، کوئی اپنے ذاتی جذبات کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا کہ ہاتھ نہ ملاتا۔








