ڈیمز فنڈ کیس: پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین و قانون کے ہوجاتے ہیں، چیف جسٹس

چوٹی کے ریمارکس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈیمز فنڈ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے اہم رہنما نے حکومت کو “بڑی پیشکش” کر دی
کیس کی سماعت
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی پرسان حال نہ تھا، اکثر مہاجر لاہور پہلی بار آئے، اس ہجرت نے ککھ پتیوں کو لکھ پتی اور لکھ پتی کو ککھ پتی بھی بنا دیا، خواتین کی بے حرمتی کی شکایات بھی ملیں
عدالت کی معاونت طلبی
عدالت نے ڈیمز فنڈ پرائیویٹ بینکس میں مارک اپ کیلئے رکھنے سے متعلق وفاقی حکومت اور واپڈا سے معاونت طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: آج رات 12 بجے سے انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا فیصلہ
فنڈز کی رقم کی معلومات
دوران سماعت ایڈیشنل آڈیٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ کے حکمنامے کے تحت وزیراعظم، چیف جسٹس ڈیمز فنڈز اکاو¿نٹ کھولا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی سیاسی پیدائش احتجاج، دھرنے اور جلسوں کی شرط پر ہوئی تھی، عظمیٰ بخاری
تعجب کی باتیں
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اکاونٹ کا عنوان نامناسب ہے اور انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کے بجائے عدالتی فیصلوں کو فوقیت نہیں دینی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے لندن جانے کے پروگرام میں تبدیلی کا امکان
عمل درآمد رپورٹس
واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے 2018 سے لے کر اب تک 19 عمل درآمد رپورٹس جمع کرائی ہیں۔ چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ یہ صرف دیکھا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ فنڈز رکھ سکتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ اہداف پر اسرائیلی حملے: بشار الاسد نے مشتبہ ہتھیاروں کے ذریعے اپنی اقتدار کی گرفت کیسے مضبوط رکھی؟
آئینی حمایت کی ضرورت
سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈیمز فنڈز کے استعمال کے بجائے انہیں مناسب طریقے سے استعمال کیا جانا چاہئے، جس پر چیف جسٹس نے آئینی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بنچ نے پاکستانیوں کے غیرملکی بینک اکاؤنٹس سے متعلق ازخودنوٹس کیس نمٹا دیا
مارک اپ کی تفصیلات
سٹیٹ بینک کے لیگل ایڈوائزر نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز فنڈ میں اس وقت 23 ارب روپے سے زائد رقم موجود ہے اور چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مارک اپ کون ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جھانسی ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کرنے والے یعقوب، جن کی اپنی جڑواں بیٹیاں جھلس گئیں
حکومتی انحصار
چیف جسٹس نے حکومتی مارک اپ کا بوجھ اور اس کی حقیقت کی جانب اشارہ کیا، یہ پوچھتے ہوئے کہ کیا سپریم کورٹ ڈیمز فنڈ میں موجود رقم رکھ سکتی ہے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے ڈیمز فنڈز کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔