شیر اپنا راستہ خود منتخب کرتا ہے اور ہمیشہ اُس پر رواں دواں رہتا ہے، مولانا حسرت موہانی عمر بھربھارتی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کرتے رہے۔
مصنف: ع غ جانباز
پاکستان کی تشکیل اور مسلم نشستیں
قسط: 25
"مرکز میں مسلمانوں کے لیے ایک تہائی نشستیں رکھی جائیں اور پنجاب و بنگال میں عام اکثریت کو بروئے کار لانے کے لیے یا تو بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات ہوں یا کونسلوں میں مسلمانوں کی نشستیں ان کی آبادی کے تناسب میں محفوظ کر دی جائیں۔ لیکن یہ ترمیمات رد کر دی گئیں اور نہر و رپورٹ ہندو مہا سبھا کی مرضی کے بغیر کسی رَدّ و بدل کے منظور کر لی گئیں۔ پس "تجاویز دہلی" کو نہرو رپورٹ میں ترمیمات کے ذریعے داخل کرانے یا ہندو مُسلم مفاہمت کے سلسلے میں محمد علی جناح کی آخری کوشش ناکام رہی اور بقول محمد احمد خان، اقبال کی پیش گوئی کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ ہندو کبھی سمجھوتے پر راضی ہوسکیں۔ پتھر کی لکیر ثابت ہوئی۔
کانگریس کا الٹی میٹم
"دسمبر 1928ء میں کانگریس کے سالانہ اجلاس منعقد کلکتہ میں یہ الٹی میٹم بھی دیا گیا کہ اگر برطانیوی پارلیمنٹ نے ایک سال کے اندر نہرو رپورٹ کو منظور نہ کیا تو کانگریس عدم تعاون اور عدم ادائیگی محصول کی مہم شروع کردے گی۔"
علامہ اقبال کی بصیرت
غرض یہ تھا وہ پس منظر جس کے پیش نظر علامہ اقبال نے خطبہ الہٰ آباد کی صورت میں مسلمانان برصغیر کے مستقبل کی نقش آرائی کی۔ مسلمانوں کی تقدیر کا فیصلہ لکھا جسے تاریخ نے قبول کیا۔
مولانا حسرت موہانی کا کردار
تحریک پاکستان کے ساتھ مولانا حسرت موہانی کی اٹوٹ وابستگی اور قائداعظم کے ساتھ نظریاتی یگانگت مُسلّمہ تھی۔ ایک دفعہ مولانا حسرت موہانی حسب معمول حرم کعبہ میں فریضۂ حج ادا کرنے میں مصروف تھے کہ مولانا عبید اللہ سندھی نے اچانک اُنہیں دیکھتے ہی گلے سے دبوچ لیااور غضبناک ہو کر پوچھا کہ تم مسلم لیگ میں کیوں شامل ہوئے تھے؟ مولانا نے جواب دیا شیر اپنا راستہ خود منتخب کرتا ہے اور ہمیشہ اُسی راستے پر رواں دواں رہتا ہے۔
مولانا حسرت موہانی کی جدوجہد
یاد رہے کہ مولانا عبید اللہ سندھی اور مولانا حسرت موہانی تحریک ریشمی رومال میں ہمسفر تھے۔ مگر بعد ازاں مولانا حسرت موہانی اپنا راستہ خود بناتے ہوئے تحریک پاکستان کی صف اوّل میں آ پہنچے تھے۔ مولانا حسرت موہانی برطانوی ہند کے وہ سیاستدان تھے جنہوں نے سب سے پہلے "آزادی کامل" کا مطالبہ کر کے گاندھی کو پریشان کردیا تھا۔ یہ مطالبہ ایسے زمانے میں کیا تھا جب مسلم لیگ کے سر آغا خان اور کانگریس کے گاندھی برطانوی استعمار سے تھر تھر کانپتے تھے۔ بابائے قوم حضرت قائداعظم نے قیام پاکستان کے ساتھ "مولانا" کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور یوپی کے ایک لیڈر چوہدری خلیق الزمان کو بھارت میں رہ کر مسلمانوں کی خدمت کا مشورہ دیا۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ چوہدری خلیق الزمان پہلی فرصت میں پاکستان آگئے۔ مگر مولانا حسرت موہانی عمر بھر بھارت میں رہ کر بھارتی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کرتے رہے۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








