اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، 27ویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات کی نہیں اتھارٹی کی ہے، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کا اسلامی نظام پر زور
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے۔ چھبیسویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا مذکرات کیے اور 32 نکات پیش کیے۔ ایک سال کے اندر ہی نئی ترمیم آ گئی، ستائیسویں ترمیم نے یہ ثابت کیا کہ جنگ نظریات کی نہیں، بلکہ اتھارٹی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار، ایک کروڑ سے زائد کی ریکوری
جی یو آئی کے ڈیجیٹل میڈیا کنونشن میں خطاب
جے یو آئی کے ڈیجیٹل میڈیا کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں میرا ایک سوال ہمیشہ یہ رہا ہے: کسی بھی میدان میں کہیں نہ کہیں ہماری کمیاں رہی ہیں، خاص طور پر میڈیا کا جو مزاج، کام اور مختلف پہلو اسلام کے متصادم رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضحیک کی جاتی ہے، حالانکہ اسلام میں لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مگر سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا اس مسئلے کو منفی انداز میں دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو کی ریلیز کا انتظار ہے: ماہرہ خان
جھوٹی خبروں کی تشہیر کا مسئلہ
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں چاہیے کہ خبر کی تصدیق کریں؛ اگر کوئی شخص آپ کے پاس خبر لے کر آتا ہے تو پہلے اس پر تحقیق کریں۔ ہمارا معاشرہ جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلاتا ہے تاکہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ ہر نوجوان مختلف باتیں کرتا ہے، اور جب نئی بات آتی ہے تو سب اس کو فوری طور پر اپناتے ہیں، جیسا کہ کسی نے سمجھا، وہی بات سنائی دیتی ہے۔
عصر حاضر میں جمہوریت کا فقدان
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کی دنیا میں واقعی جمہوری نظام نہیں ہے۔ جو لوگ طاقت اور سرمایہ رکھتے ہیں وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ امریکہ جب چاہے کہیں بھی گھس جاتا ہے اور روس بھی اس کے پیچھے چلتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی حقیقی جمہوریت کا فقدان ہے اور طاقت نے اس کی جگہ لے رکھی ہے۔ ملک میں موجود ہر صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں ہے، اور اس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں۔ ہم اس کے متاثرین ہیں اور ہم اس کو بھگت رہے ہیں۔








