وفاقی حکومت نے پنجاب کے کاشتکاروں کو کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دیدی
پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعلیٰ مریم نواز کی خصوصی کاوش سے پنجاب کے کاشتکاروں کو وفاقی حکومت نے متبادل راستوں سے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گندم کے بقایاجات: وفاق اور صوبے کتنے ارب روپے کے نادہندہ ہیں؟ جان کر آپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں
ایکسپورٹ کی سہولت کے لیے اقدامات
وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے آلو اور کینو کی ایکسپورٹ میں آسانی کے لئے وفاق سے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے متعلقہ وزاتوں اور سٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دینے کی استدعا کی۔ پنجاب حکومت نے آلو اور کینو کی ایکسپورٹ کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش اور ایکسپورٹ اخراجات کمی لانے کے لئے عملی اقدامات کی اپیل کی تھی۔ حکومت پنجاب آلو اور کینو کی ایکسپورٹ کے زرمبادلہ کے حصول کے لئے روزانہ کی بنیاد پر مسائل حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ تنازع میں اسرائیل کی مدد کرسکتے ہیں، برطانوی وزیر خزانہ
پنجاب کی پیداوار کی صورتحال
صوبہ پنجاب آلو اور کینو کی مجموعی پیداوار کا 95 فیصد پیدا کرتا ہے۔ رواں سال پنجاب میں آلو کی 12 ملین ٹن اور کینو کی 4 ملین ٹن پیداوار متوقع ہے۔
کاشتکاروں کے حقوق کی حفاظت
وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کو مشکلات سے نکالنے کیلئے وزیراعظم سے رابطے میں ہیں۔ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ حکومت پنجاب زرعی ترقی اور کاشتکار کی خوشحالی کے لئے کھلے دل سے وسائل مہیا کررہی ہے۔








