منفی سیاست اور محاذ آرائی ختم کر کے قومی مفاہمت کے لیے کام کیا جائے، انتخابات کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جن پر اپوزیشن اور حکومت کا مکمل اتفاق ہو

مصنف کی تفصیلات

مصنف: رانامیر احمد خاں
قسط: 277
پریس ریلیز
مورخہ: 21-6-2007

یہ بھی پڑھیں: مسرت جمشید چیمہ کی موبائل فون سپرداری کی درخواست منظور

اجلاس کی قرارداد

سٹیزن کونسل آف پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ لاہور میں ایک قرارداد کے ذریعے ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں اور حکومت میں محاذ آرائی کی بجائے مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قرارداد کا متن درج ذیل ہے:

”سٹیزن کونسل آف پاکستان کا یہ اجلاس وطن عزیز کے موجودہ حالات میں یہ محسوس کرتا ہے کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنی اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جمہوری اقدار اور آئین کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کے لیے شفاف اقدامات کیے جانے چاہئیں، دونوں طرف سے منفی سیاست اور محاذ آرائی ختم کر کے قومی مفاہمت کے لیے کام کیا جائے اور انتخابات کے لیے ایسے اقدامات کئے جائیں جن پر اپوزیشن اور حکومت دونوں کا مکمل اتفاق ہو۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن، اپوزیشن اور حکمران حلقے انتخابات سے بہت پہلے باہم مل بیٹھ کر سیاسی اور انتخابی سرگرمیوں کے لیے ایک متفقہ ضابطہ اخلاق تیار کرکے اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے وطن عزیز میں سیاسی مفاہمت، شائستگی، امن، بھائی چارے اور آئین و قانون کی حکمرانی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔“

یہ بھی پڑھیں: البانوی وزیر اعظم نے امریکہ کو شیطان قرار دیا

پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور شفاف انتخابات کے تقاضے

لاہور 10 دسمبر 2012ء کو پاکستان میں ”حقیقی جمہوریت اور شفاف انتخابات“ کے موضوع پر سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام ہمدرد ہال میں منعقدہ سیمینار میں مقررین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حصول آزادی کے بعد نصف صدی گزر جانے کے باوجود پاکستان میں معاشی سماجی انصاف کے آفاقی اصولوں کے مطابق جدید فلاحی ریاست اور حقیقی جمہوریت کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا۔ ہمارا موجودہ پارلیمانی سیاسی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے کیونکہ نظام ھذا میں کرپٹ سیاستدانوں، جاگیرداروں اور شہری فیوڈلز کو کھل کھیلنے اور 90 فیصد سے زائد غریب عوام الناس کا استحصال روکنے کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے۔ ملک میں مک مکاؤ کی سیاست کارفرما ہے۔ عوامی مسائل حل ہونے کی بجائے گھنبیر شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

انتخابی نظام کی حیثیت

پاکستان کا انتخابی نظام ایک غیر جمہوری غیر منصفانہ اور کرپٹ نظام ہے جس میں شہری فیوڈلز، جاگیردار اور جعلی ڈگریوں والے ارب پتی کروڑوں کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور پارلیمنٹ اور حکومت میں آ کر اربوں کماتے ہیں جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ سیاسی و انتخابی نظام میں صاحبان علم و کردار، جذبہ خدمت سے سرشار پروفیشنز، سائنسدان، ماہرین شعبہ ہائے زندگی، ریٹائرڈ ججز، وکلاء، پروفیسرز، انجینئرز، ڈاکٹرز، ماہرین معاشیات، ٹریڈ، کامرس، زراعت، معدنیات، نباتات، جنگلات، ایڈمنسٹریشن وغیرہ کو سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کے لیے پارٹی ٹکٹ دئیے جائیں اور متناسب نمائندگی کے طریقہ کار کو اپنایا جائے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...