ویوز کے لیے فیک نیوز دینے والے جرم کا مرتکب ہوگا، پنجاب پولیس کا دو ٹوک اعلان
پنجاب پولیس کا انتباہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب پولیس نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے والے صارفین کیلئے انتباہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائیں گے، اس حوالے سے سول ملٹری قیادت میں بڑی وضاحت ہے، اسحاق ڈار
فیک نیوز کی قانونی حیثیت
ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی فرد یا ادارے کی کردار کشی غلط، قابل دست اندازی جرم ہے۔ فیک نیوز، اے آئی میمز اور ویڈیوز کو اپنی ویور شپ بڑھانے کیلئے استعمال کرنے والا جرم کا مرتکب ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں شوہر نے بیوی کو تشدد کر کے مار ڈالا
آزادی اظہار رائے اور اس کی حدود
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط، جھوٹی خبر، مواد ری ٹویٹ، فاروڈ یا تشہیر کرنا فیک نیوز پھیلانے کے زمرے میں آتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے دیتا ہے، لیکن یہ آزادی بنیادی حقوق کی حدود میں ہونی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: خود پر یقین رکھیں، باسط علی کا قومی ٹیم کو مشورہ
قانونی کارروائی کی ممکنہ صورتیں
ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ آئین عدلیہ، ریاست، ملکی سلامتی، سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، کردار کشی کی اجازت نہیں دیتا۔ من گھڑت، غیر مصدقہ، جھوٹی خبروں، مواد کی تشہیر پر قانون فوری حرکت میں آئے گا۔
شہریوں کیلئے ہدایت
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ شہری فیک نیوز، پوسٹ، اے آئی میمز، ویڈیوز کی سوشل میڈیا پر تشہیر سے اجتناب کریں۔








