معاشرے اُس وقت آگے بڑھتے ہیں جب سوچیں جمود سے آزاد ہوں، مسلسل حرکت میں رہیں، اور ہر ذہن کسی دوسرے ذہن کے لیے نئی بصیرت کا در کھولے
انسانی تجربے کا راز
تحریر: رانا بلال یوسف
انسانی تجربے کا ایک عجیب مگر غیر معمولی راز یہ ہے کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز خیال ہے۔ دو افراد اگر اپنے پاس موجود 2 سیبوں کا تبادلہ کریں تو دونوں کے پاس ایک ایک سیب ہی رہتا ہے، مگر اگر 2 ذہن اپنے خیالات کا تبادلہ کریں تو ہر شخص کے پاس 2 نئی سوچیں جنم لیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ کی قطری وزیراعظم سے ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر اصولی موقف سے آگاہ کیا
خیال کا تبادلہ
نطشے (Nietzsche) کے مطابق تخلیق وہ قوت ہے جو ذہنوں کو بڑھاتی ہے، کم نہیں کرتی۔ خیال کی دنیا میں کمی نہیں ہوتی، اضافہ ہوتا ہے۔ یہی اصول انسانی فکر کے ہر ارتقائی عمل کی بنیاد رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تشدد یا ہراسانی ہرگز برداشت نہیں، پنجاب خواتین کیلئے محفوظ ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
اختلاف اور مکالمہ
ہیگل انسانی شعور کے سفر کو 3 مرحلوں میں بیان کرتا ہے: Thesis، Antithesis اور Synthesis۔ ایک خیال سامنے آتا ہے، پھر کوئی دوسرا اس سے اختلاف کرتا ہے، اور دونوں کے تصادم سے ایک بلند تر سچائی وجود میں آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان دوسرا ون ڈے آج ہوگا۔
فکری آزادی اور پیشرفت
کارل پاپر اپنی کتاب "The Open Society and Its Enemies" میں واضح کرتا ہے کہ ترقی ہمیشہ کھلے ذہن والی اقوام کا مقدر بنتی ہے۔ جہاں تنقید کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا، وہاں سوال کرنے والے کو سزا نہیں دی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: بابا گورو نانک کا جنم دن، وزیر داخلہ محسن نقوی کی سکھ برادری کو مبارکباد
فکری جمود کا اثر
بدقسمتی سے پاکستان کا معاشرہ ایسی فکری سختی کا شکار ہے کہ ہر شخص اپنی رائے کو آخری سچ سمجھتا ہے۔ یہ سختی خیالات کے اظہار کو خطرہ بناتی ہے اور نظام کو منجمد کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حالات بہت کچھ کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر
نفسیاتی کمزوری
پاکستانی ذہن کی ایک نمایاں نفسیاتی کمزوری یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے ایسی سوچیں دی جاتی ہیں جنہیں ہم سچائی کا آخری معیار سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہر نئی بات ہمیں خطرناک محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پوری امید ہے جنگ نہیں ہوگی، اگر ہوئی تو مردوں کی ہوگی: شیخ رشید
خاموشی اور خوف
ہمارے ہاں رائے کے اظہار پر خوف کا یہ ماحول معاشرے کو خاموشی کے قید خانے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں مگر کہتے نہیں، جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ۲۷ ویں آئینی ترمیم ۲۶ ویں ترمیم سے زیادہ مہلک ہے، لیاقت بلوچ
فکری افلاس
اس معاشرتی ساخت کا سب سے شدید نقصان فکری افلاس کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جب نئی حقیقتیں نہ ہوں تو نئے حل بھی پیدا نہیں ہوتے اور قومیں رک جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا بڑا اعلان: امریکی نظام کے خلاف ’امریکہ پارٹی‘ لانے کی دھمکی
مکالمے کی ضرورت
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر ترقی یافتہ قوم نے مکالمے سے جنم لیا، خاموشی سے نہیں۔ ترقی، آزاد سوچ اور تنقید کی بنیاد پر ممکن ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہلی کا الوداعی بھاگم بھاگ نظارہ کرنے کے بعد ریلوے اسٹیشن پہنچے، گاڑی روانہ ہوئی تو انہوں نے پرجوش انداز میں ہلاتھ ہلا ہلا کر ہم لوگوں کو الوداع کیا۔
راستہ مشکل مگر ممکن
پاکستان کے لیے راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ہمیں اختلاف کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا، سوال کو احترام دینا ہوگا، اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں یومیہ ہزاروں روپے کمانے والا بھکاری پکڑا گیا، اہم انکشاف
سفر کا آغاز
آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم وہ معاشرہ بن سکتے ہیں جو خوف کی بجائے فہم کو، خاموشی کی بجائے مکالمے کو اور تقلید کی بجائے تحقیق کو اختیار کرے؟
نتیجہ
سوچ وہ واحد خزانہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ ہمیں اپنے ذہنوں پر پڑے تالے کھولنے ہوں گے ورنہ تاریخ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتا ہے۔ قومیں آزاد رائے سے بنتی ہیں، اور اگر ہم نے یہ بیج نہ بویا تو آنے والی نسلیں صرف اندھیروں کی وراثت پائیں گی۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








