معاشرے اُس وقت آگے بڑھتے ہیں جب سوچیں جمود سے آزاد ہوں، مسلسل حرکت میں رہیں، اور ہر ذہن کسی دوسرے ذہن کے لیے نئی بصیرت کا در کھولے

انسانی تجربے کا راز

تحریر: رانا بلال یوسف
انسانی تجربے کا ایک عجیب مگر غیر معمولی راز یہ ہے کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز خیال ہے۔ دو افراد اگر اپنے پاس موجود 2 سیبوں کا تبادلہ کریں تو دونوں کے پاس ایک ایک سیب ہی رہتا ہے، مگر اگر 2 ذہن اپنے خیالات کا تبادلہ کریں تو ہر شخص کے پاس 2 نئی سوچیں جنم لیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دریائے گلگت کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ، تمام ہوٹلز بند، تعلیمی ادارے کل بند رہیں گے

خیال کا تبادلہ

نطشے (Nietzsche) کے مطابق تخلیق وہ قوت ہے جو ذہنوں کو بڑھاتی ہے، کم نہیں کرتی۔ خیال کی دنیا میں کمی نہیں ہوتی، اضافہ ہوتا ہے۔ یہی اصول انسانی فکر کے ہر ارتقائی عمل کی بنیاد رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 53 کروڑ کے فراڈ کیس کا حتمی چالان جمع، نادیہ کے شوہر عاطف خان سمیت 6 افراد ملزم نامزد

اختلاف اور مکالمہ

ہیگل انسانی شعور کے سفر کو 3 مرحلوں میں بیان کرتا ہے: Thesis، Antithesis اور Synthesis۔ ایک خیال سامنے آتا ہے، پھر کوئی دوسرا اس سے اختلاف کرتا ہے، اور دونوں کے تصادم سے ایک بلند تر سچائی وجود میں آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بھکر حملے میں شہید کانسٹیبل فہیم عباس اور شہباز مدنی کی قربانی کو سلام

فکری آزادی اور پیشرفت

کارل پاپر اپنی کتاب "The Open Society and Its Enemies" میں واضح کرتا ہے کہ ترقی ہمیشہ کھلے ذہن والی اقوام کا مقدر بنتی ہے۔ جہاں تنقید کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا، وہاں سوال کرنے والے کو سزا نہیں دی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں آج سے بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی

فکری جمود کا اثر

بدقسمتی سے پاکستان کا معاشرہ ایسی فکری سختی کا شکار ہے کہ ہر شخص اپنی رائے کو آخری سچ سمجھتا ہے۔ یہ سختی خیالات کے اظہار کو خطرہ بناتی ہے اور نظام کو منجمد کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں آئینی ترمیم کے مسودے سے اتفاق نہیں، معاملے کو پیر تک روکا جائے، پی ٹی آئی رہنما کا بیان

نفسیاتی کمزوری

پاکستانی ذہن کی ایک نمایاں نفسیاتی کمزوری یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے ایسی سوچیں دی جاتی ہیں جنہیں ہم سچائی کا آخری معیار سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہر نئی بات ہمیں خطرناک محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی واحد وزیراعلیٰ ہیں جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار میں آئے ہیں، باقی سب وزرائے اعلیٰ فارم 47 کی پیداوار ہیں، حافظ فرحت عباس۔

خاموشی اور خوف

ہمارے ہاں رائے کے اظہار پر خوف کا یہ ماحول معاشرے کو خاموشی کے قید خانے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں مگر کہتے نہیں، جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی؛ پاکستان کے 6ایئرپورٹس سے 52پروازیں منسوخ

فکری افلاس

اس معاشرتی ساخت کا سب سے شدید نقصان فکری افلاس کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جب نئی حقیقتیں نہ ہوں تو نئے حل بھی پیدا نہیں ہوتے اور قومیں رک جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کنوارے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں یا شادی شدہ؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف سامنے آیا

مکالمے کی ضرورت

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر ترقی یافتہ قوم نے مکالمے سے جنم لیا، خاموشی سے نہیں۔ ترقی، آزاد سوچ اور تنقید کی بنیاد پر ممکن ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 24ہزار300روپے کمی

راستہ مشکل مگر ممکن

پاکستان کے لیے راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ہمیں اختلاف کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا، سوال کو احترام دینا ہوگا، اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ترکمانستان – پاکستان دوستی زندہ باد

سفر کا آغاز

آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم وہ معاشرہ بن سکتے ہیں جو خوف کی بجائے فہم کو، خاموشی کی بجائے مکالمے کو اور تقلید کی بجائے تحقیق کو اختیار کرے؟

نتیجہ

سوچ وہ واحد خزانہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ ہمیں اپنے ذہنوں پر پڑے تالے کھولنے ہوں گے ورنہ تاریخ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتا ہے۔ قومیں آزاد رائے سے بنتی ہیں، اور اگر ہم نے یہ بیج نہ بویا تو آنے والی نسلیں صرف اندھیروں کی وراثت پائیں گی۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...