ایران پر امریکہ کا حملہ ٹل گیا ہے، اب حملے کے حالات نہیں رہے، رانا ثنا اللہ
ایران پر امریکی حملے کا امکان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکہ کا حملہ ٹل گیا ہے۔ انہوں نے بیان دیا کہ ایران پر حملے کے حالات نہیں رہے، ایران میں اتحاد آ گیا، حکومت کی حمایت میں لوگ باہر نکلے، حملے سے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ایرانی واقعی ایک اور بادشاہ چاہتے ہیں؟
ٹرمپ کے بیان کا اثر
تفصیلات کے مطابق رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات سے ایران کو نقصان ہوا ہو گا۔ صدر ٹرمپ کے بیانات سے ایرانی قوم میں جذبہ جاگ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران تحریک میں غیر ملکی عنصر موجود تھا، اگر ٹرمپ کی دھمکیاں نہ ہوتیں تو زیادہ فورسز استعمال نہ کرنا پڑتیں۔ ایران میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں، اور لوگ اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے قابل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب گورنر راج لگایا جائے گا تو اس کا جواز بھی ہوگا: عطا تارڑ
خطے کی صورتحال
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ایران میں عقیدے، مذہب، نظریے کی بنیاد پر ایسی مزاحمت دی جائے گی جو خطے کو لپیٹ میں لے گی۔ انہوں نے افغانستان کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری دنیا کے لیے درد سر بنا ہوا ہے اور افغانستان سے پاکستان متاثر ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کار کے برساتی نالے میں بہہ جانے کا واقعہ ؛کار سوار شخص کی شناخت ریٹائرڈ کرنل اسحاق قاضی کے نام سے ہوگئی
امن کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپس میں صلح کرنی چاہیے، اور جو صلح کرنے سے انکاری ہے اس کا قصور ہے۔ حکومت مستحکم ہے اور کسی قسم کا کوئی تھریٹ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف اور آصف زرداری کو اپنی جماعت کا اختیار ہے، کسی اور کا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس اور یوکرین کے درمیان 307 قیدیوں کا تبادلہ
اپوزیشن کا کردار
رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ امریکی وفد آیا تھا لیکن وہ مایوس ہو کر گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تالی دونوں ہاتھ سے بجے گی، ایک ہاتھ سے نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کی سیٹوں پر جا کر دعوت دی اور خلوص نیت سے بات کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے اپنی رائے دیں گے۔
پی ٹی آئی کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پشاور میں بھی پہیہ جام نہیں کر سکتی۔








