ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کرکے پیش کیوں نہ کیا؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے طلب
عدالت نے ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو طلب کر لیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عدالت نے ڈی آئی جی اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کرکے پیش نہ کرنے پر عدالت طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایسی آئینی ترمیم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، جسے ایک متنازع اسمبلی نے منظور کیا ہو، اسد قیصر
متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش نہ کیے جانے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک کا پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کا اعلان
عدالت میں ملزمان کی غیرموجودگی
کیس کی سماعت کے دوران این سی سی آئی اے پراسیکیوٹر عدالت کے سامنے پیش ہوئے تاہم ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی
جج کا استفسار
سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں اور انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟۔ انہوں نے پولیس کے رویے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سوال کیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور پیشی کے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے لگا، قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ
سخت نوٹس اور طلبی کا حکم
عدالت نے صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، جب کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو بھی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔
عدالت کی ہدایت
جج افضل مجوکہ نے واضح ہدایت دی کہ ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو 10 بجے عدالت میں طلب کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔








