ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کرکے پیش کیوں نہ کیا؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے طلب
عدالت نے ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو طلب کر لیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عدالت نے ڈی آئی جی اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کرکے پیش نہ کرنے پر عدالت طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: دی اکانومسٹ کے آرٹیکل کی مصنفہ بشریٰ تسکین اور نعیم پنجوتھہ کے درمیان شدید تکرار
متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش نہ کیے جانے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت تمام اداروں میں جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات متعارف کروا رہی ہے : عظمیٰ بخاری
عدالت میں ملزمان کی غیرموجودگی
کیس کی سماعت کے دوران این سی سی آئی اے پراسیکیوٹر عدالت کے سامنے پیش ہوئے تاہم ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی چیئرمین پی سی بی تقرری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
جج کا استفسار
سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں اور انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟۔ انہوں نے پولیس کے رویے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سوال کیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور پیشی کے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟۔
یہ بھی پڑھیں: خدا نہ کرے کہ کوئی ایٹمی تصادم ہو لیکن پاک بھارت کشیدگی میں یہ خطرہ رہتاہے، بلاول بھٹو
سخت نوٹس اور طلبی کا حکم
عدالت نے صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، جب کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو بھی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔
عدالت کی ہدایت
جج افضل مجوکہ نے واضح ہدایت دی کہ ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو 10 بجے عدالت میں طلب کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔








