ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کرکے پیش کیوں نہ کیا؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے طلب
عدالت نے ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو طلب کر لیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عدالت نے ڈی آئی جی اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کرکے پیش نہ کرنے پر عدالت طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ذمہ دارانہ وی لاگنگ، وقت کی اہم ضرورت
متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش نہ کیے جانے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن بل کا مسودہ جے یو آئی کو دے دیا
عدالت میں ملزمان کی غیرموجودگی
کیس کی سماعت کے دوران این سی سی آئی اے پراسیکیوٹر عدالت کے سامنے پیش ہوئے تاہم ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: چار ماہ میں 27 ہزار ڈالر، مفت رہائش اور ٹکٹ: وہ امریکی ریاست جہاں غیر ملکی ملازمین کی طلب ہے
جج کا استفسار
سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں اور انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟۔ انہوں نے پولیس کے رویے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سوال کیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور پیشی کے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کی خوشی پاکستانیوں کو کیوں ناپسند ہے؟
سخت نوٹس اور طلبی کا حکم
عدالت نے صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، جب کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو بھی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔
عدالت کی ہدایت
جج افضل مجوکہ نے واضح ہدایت دی کہ ڈی آئی جی اور ایف آئی اے ڈائریکٹر کو 10 بجے عدالت میں طلب کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔








