ہر ظلم کا انجام ہے، ہر جبر کی اک حد۔۔۔
افسانہ بیاں
کیسے کریں اس شخص کا افسانہ بیاں بھی
جو راحتِ دل بھی ہو، جو ہو دشمن جاں بھی
شاید کبھی مل جائے ہمیں اذن بیاں بھی
ایجاد تو کر رکھیں کوئی طرزِ فغاں بھی
محبت کا تلاش
مل جاتی ہے اب بھی کہیں ڈھونڈے سے محبت
گو ختم ہوئی جاتی ہے یہ جنس گراں بھی
ہر ظلم کا انجام ہے، ہر جبر کی اک حد
آگہ رہیں اس بات سے فرعون زماں بھی
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر مبارکباد
ایمان کا یقین
ابکے نہ اماں پائیں گے یہ اہل حشم بھی
ابکے نہیں بچ پائیں گے شیشے کے مکاں بھی
ہاں مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں ہے
اک روز بدل جائے گی وحشت کی زباں بھی
یہ بھی پڑھیں: عاطف اسلم کے کنسرٹ میں خاتون کی سٹیج پر چڑھنے کی کوشش، گلوکار نے ردعمل کیا؟
بہتری کی امید
اک روز ہاں چھٹ جائیں گے یہ جبر کے بادل
اک روز ہاں پا لے گی یہ مخلوق اماں بھی
اک روز کسی سمت نہ رہ جائے گی ظلمت
اور راہ سے ہٹ جائیں گے سب سنگ گراں بھی
تبدیلی کی امید
ہاں مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں ہے
اک روز بدل جائے گا یہ کہنہ جہاں بھی
کلام: ازھر منیر
(شعری مجموعہ ’’یاد آئی اک پریت پرانی‘‘ سے)








