لاہور ہائیکورٹ: پی ایچ اے کو پارکوں میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے پی ایچ اے کو پارکوں میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ایک شخص نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، 47 افراد زخمی
داتا دربار کے سامنے درختوں کی کٹائی کا انکوائری
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، عدالت نے داتا دربار کے سامنے سے درختوں کی کٹائی کے معاملے کی انکوائری کا حکم جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ویلز کار میلہ واپس آ گیا ہے — اب کی بار گوجرانوالہ میں!
عدالت کے سامنے پیشی
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کے لیے درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر پی ایچ اے، محکمہ ماحولیات، اور کمیشن کے ممبر سید کمال حیدر سمیت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاست سے باہر نکلیں اور ٹیم کے لئے کھیلیں، یونس خان کا مشورہ
پانی کے ٹینکس اور صنعتی یونٹس کی صورتحال
ممبر جوڈیشل کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو بتایا کہ پی ایچ اے نے مساجد کے ساتھ 38 واٹر ٹینکس کو فعال کر دیا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ ہونے کے باعث دو پلانٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ آٹھ انڈسٹریل یونٹس نے اپنا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ فعال کر دیا ہے۔ یکم جنوری سے اب تک دھواں چھوڑنے والے 31 صنعتی یونٹس مسمار کیے گئے ہیں، جنوری میں اب تک متعدد صنعتی اداروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی، صدر مملکت
ججز کی ریمارکس
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ انڈسٹریز کے لیے ایک خصوصی یونٹ ہونا چاہیے کیونکہ سب سے زیادہ آلودگی تو انڈسٹریز سے پھیلتی ہے۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اطلاع دی کہ داتا دربار کے سامنے سڑک کی توسیع کے نام پر درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے ایل ڈی اے کو اس بارے میں روکا ہے اور کہا ہے کہ ان درختوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس نے تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے منصوبہ بندی کرلی
پارکوں میں کاروباری سرگرمیوں کی بندش
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ پارکس میں پی ایچ اے کاروباری سرگرمیاں بند کرے، یہ پی ایچ اے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ ممبر جوڈیشل کمیشن نے اطلاع دی کہ نہرو پارک سو سال پرانا پارک تھا، وہ پارک بھی سارا تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ کوئی بھی منصوبہ بغیر تشہیر کے شروع کر دیتے ہیں۔
سماعت کی ملتوی
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ میں ایک حکم نامہ جاری کر دیتا ہوں کہ آٹھ سو پارکس میں کوئی بھی کام ہو تو اسے پہلے ممبران جوڈیشل کمیشن سے ڈسکس کیا جائے۔ عدالت نے پی ایچ اے کو پارکس میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت اگلے ہفتہ تک کے لیے ملتوی کر دی۔








