پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں بڑے پیمانے پر منظم چوری کا انکشاف
پاکستان اسٹیل ملز میں منظم چوری کا انکشاف
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں بڑے پیمانے پر منظم چوری کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی سفارش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: شرجیل میمن نے کراچی میں پنک بس سروس کا نیا روٹ شروع کرنے کا اعلان کردیا
چوری کی واردات کی تفصیلات
کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل ملز کے بی زون، بن قاسم میں 24 دسمبر 2025 کو ہونے والی منظم چوری کی واردات سے متعلق اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں جن کے بعد وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے باضابطہ طور پر ایف آئی اے سے جامع تحقیقات کی سفارش کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتظامی ڈھانچہ بہت کمزور بلکہ کھوکھلا کر دیا گیا تھا، مسائل بہت تھے، ”تھوڑے وقت میں کام بہت کرنا تھا“ ان چیلنجز کیلیے تگڑی ٹیم کی تشکیل بھی ضروری تھی۔
قومی خزانے اور انفراسٹرکچر کو نقصان
سرکاری مراسلے کے مطابق چوری کی ان وارداتوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا اور ملز کا قیمتی انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: میرے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ہر بار عمران خان کے سامنے ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، سلمان اکرم راجا
اندرونی انکوائری کے نتائج
اندرونی انکوائری اور پولیس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے بھاری مشینری، بجلی کی قیمتی کیبلز، صنعتی اسکریپ اور دیگر اہم سامان منظم انداز میں اسٹیل ملز کے احاطے سے نکالا۔ حیران کن طور پر یہ سامان گیٹ نمبر 5 سے بغیر کسی قانونی گیٹ پاس کے باہر لے جایا گیا، جس سے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 20 ماہ کے دوران صدر مملکت اور وزیراعظم کے غیرملکی دوروں کی تفصیلات منظرعام پر آگئیں
پولیس کارروائی
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 22 وہیلر ٹرک سے تقریباً 36 ٹن چوری شدہ سامان برآمد کیا گیا۔ تھانہ بن قاسم میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیش کے دوران اسٹیل ملز کی سیکیورٹی اور ڈیفینس سیکیورٹی فورس کے بعض اہلکاروں کی غفلت اور ممکنہ ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی کے 12 اساتذہ کروڑوں کی سکالرشپس لے کر فرار ہو گئے
ملزمان کے خلاف الزام
پولیس نے سجاد حسین خان اور نثار احمد پر چوری میں سہولت کاری کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ملزمان کاشف غفور اور چوہدری اکرم پر عدالت میں گمراہ کن بیانات جمع کرانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ ان بیانات کے باعث ملزمان کو ضمانت مل گئی جس سے استغاثہ کا کیس کمزور پڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری بھی نئے صوبوں کے حق میں بول پڑے
ایف آئی اے کی جامع تحقیقات کی سفارش
وزارت صنعت و پیداوار کے سیکشن آفیسر شاہد علی خان نے ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کیے گئے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ منظم جرم اور سرکاری املاک کی چوری کا معاملہ ہے جو ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے تمام ملوث افراد کے خلاف جامع تحقیقات کی جائیں۔ مراسلے میں اسکریپ ڈیلرز اور دیگر سہولت کاروں کے کردار کی چھان بین کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
سیکریٹری داخلہ کو مراسلہ ارسال
یہ مراسلہ سیکریٹری داخلہ کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ قومی اثاثوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسی وارداتوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا سکیں.








