مشہور بھارتی گلوکار بی پراک کو دھمکیاں، بشنوئی گینگ نے 10 کروڑ بھتہ مانگ لیا
بھارتی گلوکار بی پراک کو دھمکی
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی پنجاب کے معروف پنجابی گلوکار بی پراک کو بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے 10 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کرتے ہوئے سنگین دھمکیاں دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 15 روز کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر
وائس میسج میں دھمکی
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گینگ کے مبینہ رکن ارجو بشنوئی نے بی پراک کے قریب ساتھی اور پنجابی گلوکار دل نور عرف بابلو کو واٹس ایپ پر ایک وائس میسج بھیجا۔ جس میں بی پراک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں 10 کروڑ روپے کی ادائیگی کرنا ہو گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو بی پراک اور ان کے قریبی لوگوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ڈاٹس کو جوڑیں اور تجزیہ کریں علی امین کے اقدامات سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوا: محمد مالک
پیغام کی تفصیلات
وائس میسج میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ "میں ارجو بشنوئی بول رہا ہوں، بی پراک تک میرا پیغام پہنچا دو کہ ہمیں 10 کروڑ روپے چاہئیں۔ تمہارے پاس ایک ہفتے کا وقت ہے۔ تم کسی بھی ملک میں چلے جاؤ لیکن بی پراک کے ساتھ جو بھی نظر آئے گا اسے نقصان پہنچایا جائے گا۔ اس پیغام کو مذاق نہ سمجھنا۔ اگر تعاون کیا تو ٹھیک ورنہ بی پراک کو مٹی میں ملا دیں گے۔"
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: زچگی کے بعد ملازمت پیشہ خواتین کو 3 ماہ تک تنخواہ کے قانون پر عمل شروع
قانونی کارروائی
دھمکی موصول ہونے کے بعد دل نور نے فوری طور پر موہالی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو تحریری شکایت درج کرائی۔ جس کے بعد سوہانہ تھانے میں بھارتیہ نیایہ سنہتا کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں واٹس ایپ میسج کی تصدیق اور ریکارڈ حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بی پراک کی حفاظت سخت کر دی گئی ہے。
یہ بھی پڑھیں: لاہور کو سکھ کا سانس لینے دو، واپس جا کر کے پی کے لوگوں کی داد رسی بھی کر لو: عظمیٰ بخاری
بی پراک کی موسیقی کیریئر
پنجابی گلوکار بی پراک موہالی سے تعلق رکھتے ہیں اور معروف میوزک ڈائریکٹر ورندر بچن کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے فلم ’کیسری‘ کے مشہور گیت ’تری مٹی‘ کے علاوہ فلحال، پچھتاوگے اور فلم ’شیرشاہ‘ کے گیت ’رنجھا‘ جیسے کئی سپر ہٹ گانے گائے ہیں۔
تفتیش کی صورت حال
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے ہائی پروفائل شخصیات کو نشانہ بنانے کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہو سکتا ہے۔ تاہم تفتیش کا یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ آیا دھمکی واقعی اسی گینگ کی جانب سے دی گئی ہے یا کسی نے گینگ کے نام کا غلط استعمال کیا ہے۔








