واپس مڑے سب کو آواز دی، جس کو جہاں جگہ ملی سر چھپانے میں عافیّت جانی ”تم میں کوئی مرد نہ تھا وہاں اُنکا مقابلہ کرتے“ شرمندگی مقدّر بن چکی تھی۔
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 32
جب وہ دونوں واپس مڑے تو تمام لوگوں کو آواز دی اور جن لوگوں نے خوف کی وجہ سے کھیتوں اور راستوں میں چھپ کر پناہ لی تھی، وہ اٹھ کر روانہ ہوگئے۔ گاؤں کے نزدیک پہنچ کر کچھ لوگ اپنے رشتہ داروں اور واقف کاروں کے پاس چلے گئے، جبکہ باقی سب جس جگہ جگہ ملی، وہاں پناہ لینے کی کوشش کی۔ صبح ہوتے ہی، گاؤں کے پرائمری سکول اور مساجد کے ملحقہ مقامات پر لوگوں کو ٹھہرایا گیا اور گاؤں والوں نے آٹے وغیرہ کا انتظام بھی کیا، تاکہ مصیبت میں مبتلا لوگوں کی بھوک مٹائی جا سکے۔ اس دوران، گاؤں کے کچھ مردوں اور عورتوں کے پاس سے یہ جملے سننے میں آئے کہ "تم میں کوئی مرد وہاں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نہیں تھا"۔ شرمندگی ان کا مقدر بن چکی تھی۔ اس باتیں سن کر خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
اسلحے کی موجودگی
اس گاؤں میں چند بندوقیں اور چھوٹا موٹا اسلحہ موجود تھے، جس کی بنا پر یہ لوگ دو دن تک ڈٹ کر رہے اور کسی متوقع حملے کا ذکر ہوتا رہا۔ لیکن جب تیسرے دن اصل صورت حال کا پتہ چلا کہ سکھوں اور ہندوؤں کی شدت کے ساتھ تیاری ہو رہی ہے۔ اسلحے کے انبار لگ گئے اور حکومت کی حمایت دن کی روشنی کی طرح واضح ہونے لگی۔ مشرقی پنجاب کے مسلم اکثریتی علاقے کو قتل و غارت گری کے ذریعے خالی کرنے کا منصوبہ بن چکا تھا۔ آخر کار تیسرے دن چار بجے، اس گاؤں کے مکینوں نے بھی کوچ کا بگل بجا دیا اور تینوں گاؤں کے لوگ اپنے نئے ٹھکانے، قصبہ "راہوں" کی طرف روانہ ہوگئے، جو کہ وہاں سے تقریباً 5 میل دور تھا۔
قافلے پر حملہ
یہ بے سروسامان قافلہ، طوفان باد و باراں کا منظر پیش کرتا ہوا، باپ بیٹے کو اس طرح پکڑ کر بھاگا جا رہا تھا جیسے بگولا خش و خاشاک کو اپنے دامن میں لپیٹے اُڑان بھر رہا ہو۔ ماں بیٹی کا ہاتھ پکڑے، انہیں تھامے ہوئے، اوپر کا سانس اوپر، نیچے کا سانس نیچے، مستقبل کے خوفناک خواب بُنتی رہی۔ بھائی بہن کی سلامتی کی دعا کرتے، چھوٹے بچوں کو اپنے بغلوں میں بھینچے اور بزرگ کسمپرسی کی حالت میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔
ظلم و بربریت
دو ڈھائی میل کا فاصلہ طے کرتے ہی، اس مہاجر قافلے کی دُم سے اندوہناک چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہوئیں، اور ظلم و بربریت کا بازار گرم ہوا۔ مسلح جتھے نے کشت و خوں کا بازار گرم کر دیا، نہ بچوں کو چھوڑا نہ بوڑھوں کو، نوجوانوں کو تو سزا وار گردنی زنی میں گرفتار کر لیا، اور بہو بیٹیوں کو سرِ بازار اُٹھا کر لے گئے۔
خونریزی کا نتیجہ
ایک تہائی قافلہ زمین بوس لاشوں سے بھر گیا۔ راستے کی مٹیالی رنگت ایک ڈراؤنا سرخ جامہ اوڑھ گئی۔ یہ سلوہ گاؤں کے دو بندوق بردار نوجوانوں کی دلیری تھی کہ وہ پیچھے بھاگ کر گئے اور بلوائیوں کے خلاف بارود کا اظہار کیا۔ کتنے تہہ تیغ ہوئے اور کتنے سسکتی لاشوں کا روپ دھار گئے؟ ان کی سفاکی اور بربریت تھم گئی، اور وہ اپنے جہنم واصل ساتھیوں اور زخمیوں کو ٹٹولنے لگ گئے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








