ہوٹل میں ڈائننگ روم، نماز پڑھنے کے لیے علیٰحدہ کمرہ، تینوں وقت کا کھانا قیدیوں کی طرح لائنوں میں لگ کر کاؤنٹر سے حاصل کر کے کمروں میں بیٹھ کر کھایا جاتا
مدینہ طیبہ میں قیام کی حالت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 281
ہمارا ہوٹل ہرگز آرام دہ نہ تھا۔ ہماری رہائش مسجد نبوی سے 1 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی، لوکل ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ہوٹل میں کھانے کے لئے علیحدہ کمرہ تھا، اور تینوں وقت کا کھانا قیدیوں کی طرح لائنوں میں لگ کر کاؤنٹر سے حاصل کر کے کمروں میں لے جا کر بیڈ یا قالین پر بیٹھ کر کھایا جاتا تھا۔ حرم سے دور ہونے اور نمازوں کے لئے سخت گرمی میں مسجد نبوی تک بھاگ بھاگ کر جانے کی وجہ سے حاجیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ حاجیوں کو ہیٹ سٹروک، کھانسی، فلو اور بخار کا شکار ہونا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ نے اپنے جنگی ڈرونز پاکستان میں بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا
مشکلات اور بیماریوں کا سامنا
بعض حاجیوں کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے اور چند ایک کو گھٹنوں کی تکلیف اور لنگڑے پن کے باعث ایک نماز کے لئے بھی مسجد نبوی تک جانا نصیب نہ ہوا۔ میں خود بھی کھانسی اور کم بلڈ پریشر کا شکار ہوا اور باوجود لگاتار علاج کے یہ مسائل میرا پیچھا نہ چھوڑے۔
یہ بھی پڑھیں: نان فائلر پر800 سی سی سے زائد گاڑی خریدنے پر پابندی، موٹر سائیکل، رکشا خرید سکے گا، قومی اسمبلی میں بل پیش
مکہ مکرمہ کی رہائش
مدینہ طیبہ میں 8 روزہ قیام کے بعد نویں روز ہم حج منسٹری کی جانب سے مہیا کردہ بسوں میں سوار ہو کر رات ساڑھے بارہ بجے مکہ مکرمہ عزیزیہ میں اپنی بلڈنگ/ قیام گاہ نمبر 717 پہنچے۔ یہاں ہمیں کمرہ نمبر 424 میں منتقل کر دیا گیا۔ مکہ مکرمہ عزیزیہ میں ہمارا ہوٹل دیکھنے میں بہت اچھی تھی، مگر کمروں کی صفائی ناقص تھی۔ ایک ماہ تک ایک چادر بستر پر رہی، کبھی تبدیل نہ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: یونیورسکو کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی کی عالمی فورم میں نمائندگی
مکیشبات اور سہولیات
اس ہوٹل میں باتھ رومز نہ ہونے کے برابر تھے اور مکھیوں کی بھرمار تھی۔ ہر کمرے میں چھ حاجی مقیم تھے، جبکہ مدینہ منورہ میں پانچ پانچ حاجیوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔ عزیزیہ میں ہماری رہائش اس لحاظ سے بہتر تھی کہ یہاں وسیع ڈائننگ ہال اور نماز پڑھنے کے لیے مخصوص جگہ موجود تھی۔ یہاں سے حرمِ کعبہ تک جانے کا عمدہ نظام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، رانا ثنا اللہ
حج کی روحانی حیثیت
8 دن مدینہ منورہ اور 156 دن مکہ مکرمہ میں نفلی عبادات میں مشغول رہنے کے بعد بالآخر 8 ذی الحج کا دن آ گیا۔ حاجی اپنی اپنی مکتب کی جانب سے مہیا کردہ بسوں میں سوار ہو کر منیٰ پہنچ گئے۔ ہمیں بلڈنگ نمبر 410 کے ایک خیمہ میں بستر زن ہونا پڑا، جہاں خوش قسمتی سے مجھے اپنے ماموں زاد بھائی راؤ اسلم خان بھی مل گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 217 روپے تک کا اضافہ
عرفات کا دن
9 ذی الحج کی صبح حاجی منیٰ ریلوے سٹیشن سے بذریعہ ٹرین عرفات گئے۔ یہ دن واقعی حج کا اہم دن تھا، جس میں دعائیں مانگنے، اپنے گناہوں کی معافی کے لئے استغفار کرنے، اور ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کا موقع ملا۔
مزدلفہ کی طرف سفر
سورج غروب ہوتے ہی ہم مزدلفہ کے لئے روانہ ہوئے۔ کچھ نوجوان ساتھیوں نے عرفات سے پیدل مزدلفہ جانے کو ترجیح دی۔ مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرے موبائل فون کا راستے میں گر گیا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








