ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا دائرہ کار مزید شعبوں تک بڑھانے کا فیصلہ
ایف بی آر کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی توسیع
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایف بی آر نے چینی، سگریٹ، کھاد اور سیمنٹ کی صنعت میں کامیابی کے بعد ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا دائرہ کار اسٹیل کی صنعت، فارماسیوٹیکلز، مصالحہ جات، بسکٹ اور دیگر پیک شدہ مصنوعات سمیت مزید شعبوں تک دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا زراعت میں آگے نکل گئی، ہم قوم کا قیمتی وقت ضائع کرتے رہے: وزیراعظم
ٹیکس چوری کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے منفرد شناختی نشانات سے ایف بی آر اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے میں کامیاب ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی نائب صدر کا اچانک استعفیٰ
قوانین کی موثر عملداری
ریگولیٹری ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹیکس چوری، غیر قانونی اشیاء کی خریدوفروخت، مصنوعات کی پیداوار کے درست ڈیٹا کی نشاندہی میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے قوانین پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرنے میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ حالیہ عرصے میں غیر قانونی تمباکو، شوگر اور دیگر اشیاء کے خلاف ایف بی آر نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ کئی شوگر ملوں کی پیداواری یونٹ کو ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر نہ لگانے پر سیل کیا گیا جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پر ایسے کروڑوں روپے مالیت کے غیر قانونی سگریٹ کو پکڑا گیا جن پیکٹ پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ: ڈاکوؤں نے 21 زیر تربیت پولیس اہلکاروں کو لوٹ لیا
الیکٹرانک مانیٹرنگ کا نظام
ریگولیٹری نظام سے وابستہ ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی ایس اب ایک ملکگیر الیکٹرانک مانیٹرنگ فریم ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے جو پیداواری مرحلے پر محفوظ، سلسلہ وار اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ یو آئی ایمز کی تنصیب کے ذریعے پیداوار کی مقدار پر حقیقی وقت میں نگرانی کو ممکن بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایٹمی طاقت ہے، دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا: احسن اقبال
سپلائی چین کی نگرانی
یہ شناختی نشانات اس پر عملدرآمد کرانیوالے اداروں کو پوری سپلائی چین میں، فیکٹری فلور سے لے کر ریٹیل آؤٹ لیٹ تک، اشیاء کی نگرانی کی سہولت فراہم کرتے ہیں جس سے قوانین کی پاسداری، دستاویزات اور آڈٹ کے عمل میں نمایاں بہتری آئی اور اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے میں مدد ملی۔
قابلِ سراغ مصنوعات کا فوائد
ماہرین کے مطابق جب مصنوعات قابلِ سراغ ہوں تو ٹیکس کی وصولی ممکن ہوتی ہے، مارکیٹ منصفانہ بنتی ہے اور محصولات کا ضیاع منظم طریقے سے ختم ہو جاتا ہے۔








