بجلی صارفین ٹیکسز کی مد میں 27 روپے فی یونٹ ادا کرنے پر مجبور
بجلی کے بلوں میں حکومتی ٹیکسز کا بوجھ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پیٹرولیم مصنوعات کی طرح بجلی کے بل میں بھی عوام پر بجلی کی لاگت سے زیادہ حکومتی ٹیکسز کا بوجھ ہے۔ صارفین صرف 6 قسم کے ٹیکسز کی مد میں 27 روپے فی یونٹ تک ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ فیول چارجز اس کے علاوہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے اسکول پر امریکی حملے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا رد عمل آ گیا
بجلی بل میں شامل ٹیکسز
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق بجلی بل صرف بجلی کا نہیں بلکہ اس میں ٹیکسز کا انبار بھی شامل ہے، جی ایس ٹی، انکم ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، اضافی سیلز ٹیکس اور کمرشل صارف کے لیے ایکسٹرا سیلز ٹیکس سمیت سالانہ 900 ارب روپے کے ٹیکسز بھی اسی بل کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار نے جدہ میں پاکستان کے قونصل خانہ کی نئی چانسلری عمارت کا افتتاح کردیا
صارفین کی ٹیکس ادائیگیاں
نجی ٹی وی کو دستیاب دستاویزکے مطابق صارفین بجلی پر تقریباً 8 روپے ٹیکس، 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ گردشی قرض سرچارج،15 روپے 69 پیسے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے پاکستانی شہریوں کا انخلا جاری، 377 وطن پہنچ گئے
جی ایس ٹی اور دیگر چارجز
دستاویز کے مطابق صارفین سے 708 ارب روپے صرف جی ایس ٹی کی مد میں جمع ہوتے ہیں۔ نیپرا کے مطابق رواں سال صارفین 233 ارب روپے گردشی قرض سرچارج ادا کرچکے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔
کیپسٹی پیمنٹس اور فیول چارجز
صارفین کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1946ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور فیول چارجز پر مزید ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔








