عالمی سیاست کے تیزی سے تبدیل ہوتے تناظر میں پاکستان کی اجتماعی قومی قیادت کی بصیرت کی آزمائش شروع ہوگئی ہے، مولانا فضل الرحمان
ایٹمی جنگ کے خطرات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے امریکا کی طرف سے وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے خطرات سے دوچار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راجہ نادر پرویز کی پاکستانی سیاست کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا: وزیر اعظم
عالمی نظام میں تبدیلیاں
شور کوٹ میں اپنی رہائش گاہ پر وانا اور لکی مروت کے عمائدین سے ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیونزم اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ناکامی کے بعد عالمی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پرانے سیاسی و اقتصادی نظاموں کی ٹوٹ پھوٹ نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ عالمی سیاست کے تیزی سے تبدیل ہوتے تناظر میں پاکستان کی اجتماعی قومی قیادت کی بصیرت کی آزمائش شروع ہوگئی ہے، ان حالات میں سیاسی تنازعات کو گہرا کرنے کی بجائے قومی ہم آہنگی کو بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں آپریشن، 7 خوارج ہلاک، ایک سپاہی شہید
سیاسی نظاموں کی ناکامی
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پچھلے 200 برس میں ہمارے خطہ نے بادشاہتوں، نوآبادیاتی جبریت، جمہوریت اور کمیونزم سمیت بہت سے نظام ہائے سیاست کو آزمایا، ان میں سے کسی نے بھی فلاح انسانیت کا فرض پورا نہیں کیا۔ اس وقت دنیا کے تمام سیاسی نظام نوع انسانی کے دکھوں کا مداوا کرنے اور فلاحی معاشروں کے قیام کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ سترہویں صدی میں نسل انسانی کو بتایا گیا کہ تمام انسانی مسائل کا حل سائنس کی ترقی میں ہے لیکن سائنسی ترقی نوع انسانی کی فلاح کی بجائے طاقت کے حصول کا ذریعہ اور خونریزی میں اضافے کا سبب بنی۔
یہ بھی پڑھیں: جھیکاگلی میں لینڈ سیلائیڈنگ سے متاثرہ گھرانوں کے لیے فوری امدادی سرگرمیاں شروع
سائنس اور جنگی مشینیں
بڑی طاقتوں نے ایٹم بم، ہائڈروجن بم اور ایسی بے رحم جنگی مشینیں تیار کرلیں جنہوں نے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل نے غزہ میں کیمائی ہتھیاروں سے 80 ہزار سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو شہید کردیا، یعنی سائنس نے انسانیت کو موت کی دہلیز تک پہنچا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی فیصل آباد شعبہ خواتین کی ضلعی صدر کے جواں سال بیٹے کا انتقال، صدر مملکت کا اظہار تعزیت
مغربی فلسفہ اور ان کے اثرات
انہوں نے کہا کہ مغرب میں نشاۃ ثانیہ اور روش خیالی کی تحریکوں نے زندگی کی مقصدیت اور خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ مغرب کا مرد اداس، عورت مغموم اور ہر انسان پرہجوم تنہائی کا شکار ہے، دیار مغرب کے فلسفی اب زندگی کو مقصدیت سے ہم کنار کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
نئے نظام کی ضرورت
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انسان کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے سیکھنا چاہے۔ ہمارے اہل دانش، سیاستدان، بیوروکریٹ اور فوجی قیادت عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق شورائی نظام کو استوار کرنے کے لئے بحث کا آغاز کریں۔ بلاشبہ ہم ایک ایسے فلاحی معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والا سیاسی سسٹم بنا سکتے ہیں جس کے ذریعے عوام کے حق حاکمیت کا تحفظ اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جاسکے۔








