نوبیل نہ ملنے پر خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتا: ٹرمپ کا ناروے اور فن لینڈ کو خط
ٹرمپ کا ناروے کے وزیرِاعظم کو پیغام
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آنلاین) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم کو تحریری پیغام میں کہا ہے کہ انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا، اس وجہ سے وہ اب خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتے۔ یہ پیغام ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گار اسٹورے اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے مختصر خط کے جواب میں بھیجا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ویتنام میں سیاحوں کی کشتی کو حادثہ، مرنیوالوں کی تعداد 37 ہوگئی
یورپی رہنماؤں کی جانب سے خط
ٹرمپ کو بھیجے گئے مختصر خط میں ان رہنماؤں نے یورپی اتحادیوں پر عائد امریکی محصولات کی مخالفت کی تھی۔ ان محصولات کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یورپی ممالک نے امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول دینے سے انکار کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے پیغام میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے ایک اور سیارے پر زندگی کے آثار دریافت کرنے کا اعلان کردیا
امن کی ترجیحات اور ٹرمپ کا موقف
صدر ٹرمپ نے اپنے جواب میں لکھا کہ چونکہ ناروے نے انہیں آٹھ سے زیادہ جنگیں رکوانے کے باوجود نوبیل امن انعام نہیں دیا، اس لیے اب وہ خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتے۔ اگرچہ امن ان کی ترجیح رہے گا، مگر اب وہ اس پر بھی غور کریں گے کہ امریکہ کے لیے کیا درست اور مفید ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کردیا گیا
نوبیل امن انعام اور ٹرمپ کی مہم
ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے نوبیل امن انعام کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ سال یہ اعزاز وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا تھا۔ ناروے کے وزیرِاعظم نے اس حوالے سے واضح کیا کہ نوبیل انعام ایک آزاد کمیٹی دیتی ہے، نہ کہ ناروے کی حکومت۔
گرین لینڈ پر ٹرمپ کے سوالات
اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈنمارک کی گرین لینڈ پر خودمختاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اس خطے کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور یہ بھی سوال کیا کہ آخر ڈنمارک کو اس جزیرے پر ملکیت کا حق کیوں حاصل ہے۔








