حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں بینکوں سے کتنے کھرب روپے قرض لیا؟ رپورٹ سامنے آگئی
حکومت کا قرضہ حاصل کرنے کا تازہ ترین اعداد و شمار
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران شیڈول بینکوں سے 1.192 ٹریلین روپے یعنی تقریباً 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون سروس بند
سابقہ مالی سال کے مقابلے میں اضافہ
ہم نیوز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ جب حکومت نے بینکوں کو 1.255 ٹریلین روپے کا خالص قرضہ واپس کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سرجانی ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرگئی، بچی جاں بحق، 7افراد زخمی
مالی دباؤ کی عکاسی
ماہرین کے مطابق یہ رجحان حکومت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 2.5 ٹریلین روپے کا منافع وفاقی حکومت کو منتقل کیا، اس کے باوجود حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے بھاری قرض لینا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: چین پاکستان میں ”ون بیلٹ ون روڈ“ منصوبے کے تحت صنعتی یونٹ بھی لگائے گا جہاں سے تیار شدہ مصنوعات دوسرے ملکوں کو برآمد کی جائیں گی
ٹیکس وصولی کی صورت حال
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس عرصے میں 6.159 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کیا، جو مقررہ ہدف 6.490 ٹریلین روپے سے تقریباً 331 ارب روپے کم ہے۔ تاہم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ٹیکس ریونیو میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جب وصولیاں 5.618 ٹریلین روپے تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
بینکوں کی قرض دینے کی پالیسی
بینکنگ ماہرین کے مطابق بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے کا رجحان بدستور جاری ہے۔ کیونکہ حکومتی سیکیورٹیز کو کم خطرہ اور بہتر منافع حاصل ہوتا ہے۔ حالیہ ہفتے ٹریژری بلز کی نیلامی کے دوران بینکوں نے تقریباً 2.5 ٹریلین روپے تک کی بولیاں لگائیں۔
اخراجات میں اضافہ کی وجہ سے قرض کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث، ریونیو میں بہتری کے باوجود بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔








